8

صرف دو جزیروں پر پلاسٹک کے ڈھیر سے 5 لاکھ ہرمٹ کیکڑے ہلاک

آبادی سے دور کوکوس جزائر پر لگ بھگ 5 لاکھ ہرمٹ کیکڑے پلاسٹک کی آلودگی کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں (فوٹو: سائنس نیوز)

آسٹریلیا: پلاسٹک کے عتاب کی ایک اور خوف ناک خبر سامنے آئی ہے جس میں دو انتہائی دور افتادہ جزیروں پر پلاسٹک کے جمع ہونے والے پہاڑ سے کم سے کم پانچ لاکھ ہرمٹ کیکڑوں کے مرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔

اس واقعے سے ثابت ہوا ہے کہ انسانی آبادی کا پلاسٹک سمندر کی لہروں سے ایسے دوردراز جزیروں اور ساحلوں تک پہنچ رہا ہے جہاں صرف آبی جان داروں کا راج ہے اور یوں جاندار شدید متاثر ہورہے ہیں۔

تسمانیہ انسٹی ٹیوٹ سےوابستہ جینفر لیورس اور ان کے ساتھیوں نے سب سے پہلے ان جزیروں کو 2017ء میں دیکھا تھا اور وہاں کے ساحل پلاسٹک سے اٹے پڑے تھے لیکن اب دوبارہ انہوں نے پلاسٹک کے ڈبوں، بوتلوں اور کچرے کو دیکھا تو اندر جگہ جگہ مردہ کیکڑے پھنسے ہوئے تھے اور مرچکے تھے۔

سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ اس کوڑے سے کم سے کم پانچ لاکھ کیکڑے ہلاک ہوئے ہیں جو ایک خاص نسل سے تعلق کی بنا پر ہرمٹ کریب کہلاتے ہیں۔ اس سے قبل ہم کچھووں کے نتھنوں میں پلاسٹک نلکیاں، وھیل کے پیٹ میں پلاسٹک کے تھیلے اور متروکہ جالوں میں پھنسی سمندری مخلوق کو مرتا دیکھ چکے ہیں۔

ہرمٹ کیکڑے پلاسٹک کی بوتلوں میں پھسل کر چلے جاتے ہیں اور باہر نہیں نکل نہیں پاتے اور اندر ہی گھٹ کر مرجاتے ہیں۔ اب یہ دوجزیرے یا تو کوڑا کرکٹ سے بھرے ہیں یا پھر مردہ ہرمٹ کیکڑے کی لاشوں سے ۔ کوکوس 27 چھوٹے بڑے جزائر پر مشتمل ہیں اور ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ شاید 5 لاکھ 70 ہزار کیکڑے اب تک مرچکے ہیں۔

ہرمٹ کیکڑے کسی خول کے بغیر پیدا ہوتے ہیں اور بڑھنے کے لیے انہیں خول کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سمندری گھونگھوں کے خول اور سیپیوں میں رہ کر اپنی زندگی گزارتے ہیں اور جب وہ بڑھتے ہیں تو ایک سیپی کو چھوڑ کر دوسری بڑی سیپی کو گھر بنالیتے ہیں لیکن ناہموار پلاسٹک میں وہ پھنس کر رہ جاتے ہیں اور دم توڑ دیتے ہیں۔

مرتے ہوئے کیکڑے کا پیغام

قدرت کے کارخانے میں ایک ہرمٹ کیکڑا سیپی یا گھونگھوں کے خول کے اندر رہتا ہے۔ جب یہ مرتا ہے تو ایک سگنل خارج کرتا ہے جو دوسرے بے خول کیکڑے تک پہنچتا ہے۔ اس کے تحت اب بے خول کیکڑا اس خول کا مالک بن جاتا ہے۔

عین اسی طرح پلاسٹک سے دم توڑتے کیکڑوں نے جب سگنل خارج کیے تو دوسرے کیکڑے پلاسٹک کے کوڑے میں پھنسے اور یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک تھوڑے سے وقت میں لاکھوں کیکڑے ہلاک ہوگئے اور عظیم ماحولیاتی نقصان ہوا ہے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں