9

پرندوں کا غیرقانونی شکار کرکے فیس بک پرتصاویر شیئر کرنے والوں کیخلاف مہم تیز

مہم کے تحت اب تک 51غیرقانونی شکاریوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے

 لاہور: پنجاب وائلڈلائف ڈیپارٹمنٹ نے جانوروں اور پرندوں کو غیر قانونی طور پر شکار کرکے ان کی تصاویر فیس بک پر شیئر کرنے والوں کیخلاف جاری مہم مزید تیز کردی۔

اگست 2018ء سے جاری اس مہم کے تحت اب تک 51غیرقانونی شکاریوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے جب کہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے زخمی حالت میں پکڑے جانے والے نایاب نسل کے 14 قیمتی فالکن کھلی فضاؤں میں چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اعزازی گیم وارڈن پنجاب 11 دسمبرکو کلرکہارمیں فالکن آزاد کریں گے۔

پاکستان میں فالکنزکی بحالی اورفروغ کے لئے کام کرنیوالی ایک این جی او نے گزشتہ کچھ عرصے کے دورا ن پنجاب کے مختلف علاقوں سے زخمی حالت میں مختلف اقسام کے فالکن تحویل میں لئے تھے جن کی دیکھ بھال اورعلاج کیا گیا ہے۔اب ان فالکنزکے صحت یاب ہونے پرانہیں کھلی اورآزادفضاؤں میں چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ یہ اپنے قدرتی مسکن کی طرف  واپس لوٹ سکیں۔

یہ فالکن 11 دسمبرکوکلرکہارکی کھلی فضاؤں میں آزادکئے جائیں گے ، پنجاب وائلڈلائف کے اعزازی گیم وارڈن بدرمنیراورمتعلقہ این جی او کے نمائندے ان فالکنزکوآزادکریں گے۔ بدرمنیرنے بتایا کہ فالکن انتہائی نایاب اورقیمتی پرندے ہیں ،ان کی بحالی اورافزائش میں اضافے کے لیے پنجاب حکومت کے ساتھ ساتھ مختلف این جی اوزبھی اپنا کردار اداکررہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ فالکن کی بحالی اوراس سے متعلق آگاہی کے لئے کام کرنیوالی ایک این جی او نے فالکن چھوڑنے کا پروگرام بنایا ہے جس میں انہیں بھی مدعوکیاگیاہے۔

دوسری طرف پنجاب وائلڈلائف کے ترجمان نے فالکن آزادکے جانے کے پروگرام سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب وائلڈلائف  نے ماضی قریب میں کوئی فالکن نہیں پکڑے اورنہ ہی انہیں آزادکیاجارہا ہے جبکہ دوسری طرف محکمہ کے اعزازی گیم وارڈن نے اپنے فیس بک پیج پراس پروگرام کی تفصیلات شیئرکی ہیں اورعام شہریوں کو فالکن چھوڑے جانے کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

علاوہ ازیں  پنجاب وائلڈلائف ڈیپارٹمنٹ نے جانوروں اور پرندوں کو غیر قانونی طور پر شکار کر کے ان کی تصاویر فیس بک پر شیئر کرنیوالوں کیخلاف جاری مہم مزید تیز کر دی ہے۔ اگست 2018ء سے جاری اس مہم کے تحت اب تک 51غیرقانونی شکاریوں کیخلاف کارروائی کی گئی جن میں سے 38غیرقانونی شکاریوں نے اپنا جرم تسلیم کرتے ہوئے محکمانہ معاوضہ دینے کی درخواست پر ان سے مجموعی طور پر 10لاکھ روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کروادئیے گئے جبکہ دیگر 13غیر قانونی شکاریوں کیخلاف مقدمات مختلف عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں