5

دہلی ہائی کورٹ کی پولیس اورحکومت کوسخت پھٹکار،سرکارکی صفائی کی کوشش، اشتعال انگیز بیانات دینے والے بی جے پی لیڈروں کے خلاف جلدایف آئی آر کاحکم

نئی دہلی:26فروری(بی این ایس )
دہلی ہائی کورٹ نے سخت موقف اپناتے ہوئے اشتعال انگیز بیان دینے والے بی جے پی لیڈروں کے خلاف ایف آئی آردرج کرنے کاحکم دیاہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے سی اے اے پرپرامن احتجاج کے خلاف تشدد کے معاملات کو لے کر پولیس سے ایف آئی آر درج کرنے کے لیے کہاہے ۔کورٹ نے اس بارے میں جمعرات کو عدالت کو آگاہ کرنے کے لیے کہاہے۔کورٹ نے حکم دیا کہ ایف آئی آر درج کرو۔کیس میں کل سماعت ہوگی۔کورٹ نے آج چار ویڈیو کلپ دیکھی ہیں۔کورٹ نے کہاہے کہ صرف ان 3-4 کلپ تک ہم محدود نہیں رہیں گے۔ ایسی ساری کلپس پرایف آئی آر درج کریں۔ہر اشتعال انگیز تقریر پر ایف آئی آر درج کیجیے۔سی اے اے کے پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کے معاملات کولے کر اب تک کوئی مقدمہ درج نہ ہونے پر ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو جم کر پھٹکار لگائی۔چار بی جے پی لیڈروں مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر، ایم پی پرویش ورما، ممبر اسمبلی ورما اور سابق ممبر اسمبلی کپل مشراکی ویڈیوز عدالت میں چلوائی گئیں۔ کورٹ میں انوراگ ٹھاکرکی وہ ویڈیو چلائی گئی جس میں نعرہ لگ رہا ہے۔ملک کے غداری کو گولی مارو ۔بی جے پی ممبراسمبلی ابی ورما کی ویڈیو بھی چلائی گئی۔ یہ کل شام کی ویڈیوہے۔ کورٹ نے پولیس سے کہا کہ کیا وہاں 144 لگی ہوئی تھی؟پولیس نے کہاہے کہ نہیں، لکشمی نگر میں 144 نہیں لگی تھی۔درخواست گزار کے وکیل کولن گوجالوس نے کہا کہ یہ تمام سینئرلیڈرہیں۔ لیکن ان کے بیانات سے ان کی نیت کاپتہ چلتاہے۔لہٰذا کورٹ کو ان لوگوں کو جیل بھیج دینا چاہیے۔ ہائی کورٹ نے پوچھا کون سا ڈپٹی کمشنر ویڈیو میں کپل مشرا کے ساتھ کھڑا ہے کیا نام ہے؟ کورٹ میں موجود زیادہ تر وکلاء نے کہاہے ڈپٹی کمشنر سوریا۔درخواست گزار نے دہلی آرمی بلانے کا مطالبہ کیا۔کورٹ نے کہاہے کہ اب حالات دیکھنے دیجیے،ضرورت نہیں ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اگر متنازعہ بیان پر دہلی پولیس رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرتی تو دہلی میں تشدد نہیں ہوتا۔ہائی کورٹ میں سرکاری وکلاء کے درمیان اختلافات دیکھنے کوملے۔ دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے کہا کہ ابھی کوئی حکم نہ دیا جائے جبکہ دہلی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے وکیل راہل مہرا نے کہا کہ فوری طور پر گرفتاری کا حکم دیا جائے۔سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے کہا کہ کپل مشرا نے جو تقریر میں کہا، اس کا اس کے بعد ہوئے تشدد کے واقعات سے کوئی براہِ راست واسطہ نہیں ہے۔ایف آئی آر سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس پر فیصلہ کرنے کے لیے باقی مواد کو دیکھنا ہوگا۔ اس کے لیے اوروقت چاہیے۔دہلی حکومت کے وکیل راہل مہرا نے مہتا کی دلیل کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہاہے کہ کپل مشرا کے خلاف معاملہ درج نہ کرنے کا کوئی جواز نظر نہیں آتاہے۔ ایف آئی آر ہر ایک شک کی صورت میں درج ہونی چاہیے۔اگر بعد میں ایف آئی آر غلط پائی جائے تو ایف آئی آر منسوخ ہوسکتی ہے۔تشار مہتہ نے کہا کہ پولیس کے اوپر تیزاب سے حملہ ہو رہا ہے، پولیس کو لنچ کیا جا رہا ہے۔ پولیس اہلکار ہسپتال میں داخل ہیں۔آج وہ دن نہیں ہم پولیس پر سوال اٹھائیں اور کورٹ پابندی لگائے، کچھ سلیکٹیڈ ویڈیو دیکھ کر فیصلہ نہ کیا جائے۔کورٹ نے تشار مہتا کے بیان پر ناراضگی ظاہرکی ہے۔ کورٹ نے کہا کہ آپ کے الفاظ سننے سے ایسا لگتا ہے کہ پولیس کو آپ اور خراب پوزیشن میں لا رہے ہیں۔ریاست جل رہی ہے اورپولیس ایف آئی آر درج نہیں کرے گی۔سب کو محفوظ پولیس کا آئینی حق ہے۔کورٹ نے کہاہے کہ اب پولیس سے پوچھتے ہیں،پولیس افسرسے پوچھیے کتنے مر چکے ہیں؟تشار مہتہ نے جج سے کہاہے کہ آپ ناراض مت ہوئیے۔ جج نے کہاہے کہ کیوں غصہ نہیں ہوں۔ آپ بتائیے ابھی تک کیوں ایف آئی آر درج نہیں ہوئیں۔ 15 دسمبر کو ایف آئی آر درج ہوناچاہیے تھی، آج تک کیوں نہیں ہوئی۔ پولیس افسر کو بولنے دیجیے۔تشار مہتہ نے کہا کہ ہم یہاں سے پولیس ڈپارٹمنٹ نہیں چلا سکتے۔ کورٹ نے کہا کہ کیا بات کرتے ہیں؟ مہتا نے کہا کہ آج نہیں ابھی حالات نہیں ہیں۔ ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو ایف آئی آر درج نہ ہونے پر آڑے ہاتھوں لیا۔کورٹ نے کہا کہ ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں کہ ایک پولیس افسر کھڑے ہیں، کپل مشرا نے ان کے سامنے تقریرکی، کیا اس کی معلومات پولیس کمشنر کو دی؟ ڈپٹی کمشنر نے کہاہے کہ اس وقت بڑی مشکل سے کپل مشرا کو وہاں سے نکالا۔ وہاں کپل مشرا کے جانے کے بعد مقامی لوگ سڑک پر بیٹھ گئے۔تشار مہتا نے کہاہے کہ وہاں کے حالات اس دن کے خراب تھے۔ کورٹ نے کہا کہ لکشمی نگر کی ویڈیو کے بارے میں کیا بولیں گے؟ 15 دسمبر سے 26 فروری آ گئی آپ ایف آئی آر تک نہیں کر رہے ہیں؟ اگر ایف آئی آر ہی نہیں کرو گے تو جانچ کس طرح ہوگی؟ کس بنیادپرآپ آگے بڑھیں گے۔آپ ایف آئی آر نہیں کریں گے تو ایسی تقریر اور بڑھتی ہوئی جائیں گی۔کورٹ نے حکم دیا کہ ایف آئی آر درج کرو۔کیس میں کل سماعت ہوگی۔ایسی ساری کلپ پر ایف آئی آر کرو۔کورٹ نے کہا کہ آپ کمشنر کو ہمارا غصہ اور ناراضگی بتائیں۔کورٹ نے کہاہے کہ دہلی جل رہی ہے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں