5

معہد علی بن ابی طالب اور شعبہ عربی کے طلباء کی سالانہ مسابقتی انجمن کا آغاز،ملک و ملت و انسانیت کی خدمت علم کے بغیر ادھوری: مولانا محمد اظہر مدنی

نئی دہلی: ۲۶؍فروری (پریس ریلیز)
جامعہ ابوبکر صدیق الاسلامیہ کے ماتحت چلنے والا جنوبی دہلی کا معروف اور مشہور ادارہ معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم اور شعبہ عربی کی سالانہ ثقافتی ، صحافتی اور خطابتی انجمن کی پہلی نشست کا انعقاد عمل میں آیا اور یہ سلسلہ کئی نشستوں پر مشتمل ہوگا۔
اس سلسلے کی پہلی نشست آج بتاریخ ۲۶؍فروری ۲۰۲۰ء ساڑھے نو بجے صبح سے ساڑھے بارہ بجے تک چلی، جس میں شعبہ عربی کے تمام طلباء نے شرکت کی۔اس میں اعدادیہ اور اولیٰ متوسطہ کے طلباء نے ’’اسلام میں سلام کی اہمیت‘‘ کے عنوان سے کافی شاندار تقریریں پیش کی۔امن و سلامتی اور اس کے لئے دعا اہم ترین شعائر و تعلیمات میں سے ہے اور مسلمان جو سب سے بہتر پہلی ملاقات میں اپنے کسی بھائی کو امن و سلامتی اور رحمت وبرکت کی دعا سے بہتر کوئی اور تحفہ نہیں دے سکتا۔اس لئے اس عنوان کی اہمیت مسلم ہے۔،چنانچہ طلباء نے اس سلسلے میں دل کھول کر دادتقریر دی۔
پروگرام کی اس پہلی نشست کی صدارت مولانا فضل الرحمن ندوی رکن المرکز الاسلامی الہندی للترجمۃ والتالیف نے کی اور حکم کا فریضہ مولانا طاہر جمال مدنی استاذ جامعہ ازہر ہندیہ اور مولانا مطیع الرحمن تیمی استاذ جامعہ امام ابن تیمیہ چندن بارہ بہار نے انجام دیا۔ نظامت طالب علم عبدالہادی کلاس اولیٰ ثانویہ نے کی۔
معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم اور شعبہ عربی کے تحت طلباء کی معیاری تعلیم و تربیت کا انتظام کیا گیا ہے، اس کے لئے ماہر و ذی استعداد اساتذہ کی ایک ٹیم مامور کی گئی ہے جو شبانہ روز کی محنت کے ذریعہ طلباء کو باصلاحیت عالم دین اور ایک وفادار محب وطن شہری بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اب تک شعبہ تحفیظ سے مختصر ترین مدت میں درجنوں سے زائد حفاظ فارغ ہوچکے ہیں اور شعبہ عربی میں فی الوقت عربی کی پانچویں جماعت تک کی تعلیم کا نظم ہے۔
جامعہ اپنی سابقہ روایت کو باقی رکھتے ہوئے بچوں کے اندر صحافت اور مختلف زبانوں میں خطابت اور صحافت کے مختلف،متنوع اور اہمیت و ضرورت کے حامل پروگراموں کے ساتھ ساتھ کھیل کود اور جسمانی تندرستی و توانائی اور صحت کو فروغ دینے کے لئے ہر سال سالانہ انجمن کے نام سے مہتمم بالشان پروگرام منعقد کرتی آرہی ہے۔اس سال بھی یہ سالانہ انجمن کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جس میں مختلف اسلامک جامعات اور عصری یونیورسٹیوں کے دانشوران اور مفکرین حضرات بطور صدر اور حکم شریک ہورہے ہیں۔ خاص طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ، جے این یو اور دہلی یونیورسٹی کے علاوہ جامعہ اسلامیہ سنابل نئی دہلی، جامعہ ریاض العلوم اور المعہد العالی للتخصص فی الدراسات الاسلامیہ کے علمائے کرام اور دانشوران و اسکالرز کے نام قابل ذکر ہے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں