4

بھیڑ نے پولیس کے سامنے مسلمانوں پرحملہ کیا،حکومت پوری طرح ناکام رہی،ہندوستان کی شبیہ کونقصان پہونچا،بین الاقوامی میڈیاکی رپورٹ میں دہلی تشددچھایارہا

نئی دہلی:26فروری(بی این ایس )
ملک کے دل میں جاری تشدد کو ورلڈ میڈیا کافی ترجیح کے ساتھ کوریج کر رہی ہے۔زیادہ تر غیر ملکی میڈیا تشدد کے پیچھے بی جے پی کا ہاتھ بتا رہی ہے اور پولیس کے کردار پر بھی سوال کھڑے کیے جارہے ہیں۔ زیادہ تر میڈیا نے لکھا ہے کہ دہلی پولیس تشددروکنے میں ناکام رہی پھر بھی کہہ رہی ہے کہ حالات کنٹرول میں ہیں۔اس سے دنیابھرمیں ہندوستان کی شبیہ کوسخت نقصان پہونچاہے۔نیو یارک ٹائمز، امریکہ نے لکھاکہ جب ٹرمپ اور مودی بات چیت کر رہے تھے، تب ہزاروں لوگ تشددکا سامنا کر رہے ۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دہلی میں موجودگی کے دوران ہی وہاں کی سڑکوں پر فسادات شروع ہوگئے۔ بھارت کے دارالحکومت کے کئی علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف ہوئے تشدد میں درجن بھر سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔جب ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی آپس میں بات چیت کر رہے تھے، اس وقت ہزاروں لوگ تشددکاسامناکررہے تھے۔ سڑکوں پر پیٹرول بم اور گولی چل رہی تھی، بھیڑ گاڑیوں پر حملے کر رہی تھی۔ بڑی تعداد میں صحافی اور پولیس کے جوان ہسپتال میں داخل ہیں۔ اس تشددکے پیچھے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف چل رہی تحریک کے خلاف اقدام ہے ۔سی این این، امریکہ نے لکھاکہ بھیڑ دکانوں میں آگ لگا رہی تھی، پولیس بے بس ہوکر دیکھ رہی تھی۔تشدد میں 20 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ یہ تشدد پیر کو شروع ہواتھا۔ اسی دن صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھارت پہنچے تھے۔پولیس آنسو گیس چھوڑرہی تھی، اس کے باوجود پتھراؤ کر رہے تھے۔ بھیڑ دکانوں اور پٹرول پمپ میں آگ لگا رہی تھی۔ پولیس بے بس ہوکرصرف دیکھ رہی تھی۔ ریاست کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کہہ رہے ہیں کہ پولیس صورتحال کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے، تو فوج کو بلایا جائے۔گارڈین، برطانیہ نے لکھاہے کہ بھارت کے دارالحکومت میں دہائی کا سب سے بڑا مذہبی تشدد،خوف سے بہت سے بے گھر ہوئے۔بھارت کے دارالحکومت دہلی میں دہائی کاسب سے بڑا مذہبی تشدد بھڑکاہے۔ہندوؤں کی بھیڑ نے مسلمانوں کے گھروں اور کئی مساجد پر حملہ کیا۔ بدھ کی رپورٹس کے مطابق کچھ مسلمانوں کے گھروں میں لوٹ مار بھی ہوئی ہے۔ تشدد کے خوف سے بہت سے لوگ بے گھر ہو گئے ہیں. 200 سے زیادہ لوگ فائرنگ میں زخمی ہوئے ہیں۔بی بی سی، برطانیہ نے لکھاکہ دہلی میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ہوئے تشدد کے بعد حالات کشیدہ بنی ہوئے ہیں۔مسلسل تیسرے دن رات میں بھیڑ نے مسلم لوگوں کے گھروں اور دکانوں کو نشانہ بنایا۔الجزیرہ نے بتایا کہ پولیس نے ہندوبھیڑ کومسلمانوں پر حملے کرنے میں مدد کی۔ایک مسجد کو آگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پولیس پر الزام ہے کہ وہ ہندو بھیڑ کو مسلمانوں اور ان کی املاک پر حملے میں مدد کر رہی تھی۔ بھیڑ جے شری رام کے نعرے لگا رہی تھی۔ کئی مسلم علاقوں میں تین دن سے تشدد چل رہا ہے۔ڈان، پاکستان نے بتایاہے کہ بی جے پی لیڈر پولیس کے سامنے ہی مسلمانوں پر حملہ کرتے رہے۔تشدد پولیس کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔وزارت داخلہ بھی اندھی بنی رہی۔ ہندو ہجوم مسلم علاقوں میں پولیس کے سامنے ہی تشدد کرتارہا۔ حکمراں پارٹی بی جے پی کے لیڈر بھی اس بھیڑ میں شامل تھے۔ بی جے پی کے بڑے لیڈر بھی مکمل تشددپر خاموش رہے۔ سوال پیدا ہو رہے ہیں کہ اگر پولیس ہندو ہجوم کو کنٹرول کرنے میں ناکام تھی، تو امن کے لیے آرمی کی مدد کیوں نہیں مانگی۔ اس کے باوجود دہلی پولیس کہتی رہی، صورتحال کنٹرول میں ہے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں