3

سیاہ قانون کے خلاف آزادی جیسی تحریک چل رہی ہے،مونگیر احتجاجی دھرنا سے مولانا کبیر الدین رحمانی کا خطاب

مونگیر: 26؍ فروری (پریس ریلیز)
پورا ہندوستان اور ہندوستانیوںکو تقسیم کرنیوالا قانون ہے، آزادی کے نعروں سے گونج رہاہے ۔ ہر شہر ،ہرقریہ اورہر قصبہ میں عوام سڑکوں پر ہے اورNRC, CAAاورNPRسے آزادی کامطالبہ کررہے ہیں ۔آج کا ہندوستان آزادی کی جدوجہد کی عکاسی کررہاہے ۔جس طر ح اس دور میں سبھی ہندو مسلم سکھ عیسائی،دلت آدی واسی آزادی کی تحریک چلارہے تھے ۔ انگریزوں کے خلاف متحدہوکرسیاہ قانون سے آزادی کا نعرہ بلند کررہے تھے اسی طرح آج بھی پورا ہندوستان متحد ہوکر آزادی کا نعرہ بلند کررہاہے ۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے استاذ جناب مولانا کبیر الدین رحمانی صاحب نے شہید عبد الحمید چوک مونگیر میں احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مولانا محترم نے کہاکہ ہند ومسلم سکھ عیسائی سبھی سڑکوں پر اترکرغیر جمہوری قانون سے آزادی کی مانگ کررہے ہیں ۔ لڑائی دونوں ایک جیسی ہے ۔ تحریک یکساں ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اسوقت انگریزوں کے خلاف آزادی کی لڑائی تھی۔اس تحریک اور جدوجہدکا مقصد ملک کو غیروں سے نجات دلانا تھا ۔ بیرونی طاقتوں کو ملک بدر کرنامقصد تھا ۔ آج کی لڑائی کا تعلق آئین اور دستور کے تحفظ سے ہے ۔انگریزوں کے خلاف لڑ ائی میں کامیابی ملنے کے بعد جس ہندوستان کی تعمیر اور تشکیل ہوئی تھی اسے باقی رکھنے کی ہے۔کیوں کہ وہ ہندوستان پھر خطرے میں پڑگیاہے ۔جس کو بڑی قربانی اور جدوجہد کے بعد لوگوںنے آزاد کرایا تھا،ہندوستان کی آزاد ی اس کا آئین ، دستور اور جمہوری اصول ہے ۔ ان چیزوں کو ایک گروپ اور ارباب اقتدار ختم کرنے کے درپے ہیںاور اس کا آغازوہ کرچکے ہیں ۔ شہریت ترمیمی قانون ہندوستان کے آئین کے خلاف ہے اور اسے ہندو راشٹر بنانے کی طرف بنیادی قدم ہے ۔ منو سمرتی یعنی آقااور غلام جیسا نظام تھوپنے کا یہ منصوبہ ہے ۔اس لئے یہ لڑائی یقینی طور پر آزادی کی لڑائی ہے ۔ ملک اور دستور کو بچانے کی لڑائی ہے۔ یہی جذبہ ہے جس کی بنیاد پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گیاہے ۔ ملت ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کا 140 شہر اور قصبہ شاہین باغ بن چکاہے یعنی دہلی کے شاہین باغ کی طرح وہاں دن رات لگاتار متنازع شہریت قانون ،این آرسی اور این پی آر کے خلاف احتجاج ہورہاہے ۔ مردوں کے ساتھ خواتین سر فہرست ہیں اور وہ قیادت کررہی ہیں ۔اس کے علاوہ دسیوں مقام پر روازنہ ہزاروں او رلاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اتر کر احتجاج کررہے ہیں ۔ پروٹیسٹ کررہے ہیں اور دستور بچانے کی جدوجہد میں پیش پیش ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب اتنی بڑی تعداد میں خواتین سڑکوں پر اترکر احتجاج کررہی ہیں اور کسی ملک کے آئین اور دستور کو بچانے کیلئے شب وروز ایک کرچکی ہیں ۔ خواتین جب بھی سڑکوں پر اتری ہیں انہیں کامیابی ملی ہے ۔ آج کی خواتین بھی کامیابی سے ہم کنار ہوںگی ۔ ان کی تحریک جدوجہد کامیاب ہوگی اور آزادی کو بچانے کی یہ تحریک کامیابی سے ہم کنار ہوگی ۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں