5

اسسٹنٹ پروفیسر نے سی اے اے کی حمایت کرنے والے غیر مسلم طلبہ کو فیل کرنے کی کہی تھی بات ،جامعہ نے کیا معطل

نئی دہلی، 26 مارچ (بی این ایس )
جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی نے اس اسسٹنٹ پروفیسر کو معطل کر دیا ہے جس نے کہا تھا کہ انہوں نے شہریت ترمیم قانون (سی اے اے) کی حمایت کرنے والے 15 غیر مسلم طالب علموں کو چھوڑ کر سب کو پاس کر دیا ہے۔اس معطلی پر اسسٹنٹ پروفیسر نے کہا کہ اس کاکہناسہی تھا اور اس کی غلط تشریح کی گئی ہے۔الیکٹریکل انجینئرنگ پڑھانے والے اسسٹنٹ پروفیسر ابرار احمد نے بدھ کو ٹویٹ کیا تھا، 15 غیر مسلموں کو چھوڑ کر میرے تمام طالب علم پاس ہو گئے ہیں،اگر آپ سی اے اے کے خلاف تحریک کرتے ہیں تو میرے پاس سی اے اے کے حق میں 55 طالب علم ہیں،اگر تحریک ختم نہیں ہوئی تو اکثریت کو سبق سکھائیں گے۔ابرار احمد کے اس ٹویٹ کی ٹوئٹر پر کافی مذمت ہوئی تھی۔اس کے بعد شام میں ابرار نے ایک اور ٹویٹ کیا تھا جس میں لکھاکہ امتحان میں امتیازی سلوک کو لے کر جو میں نے ٹویٹ کیا تھا وہ صرف سی اے اے اور سی اے اے مخالفت کو لے کر ایک کمیونٹی کے خلاف حکومت کے دہرے رویے پر طنز تھا،نہ تو ایسی کوئی امتحان ہوا ہے اور نہ ہی کوئی نتیجہ آیا ہے۔ذرا ٹھہرئیے اور پھر سو سوچئے، یہ صرف ایک مسئلے کی وضاحت کے لئے کہا گیا ہے،میں کبھی امتیازی سلوک نہیں کرتا۔
معاملے کو بڑھتا دیکھ جامعہ نے اپنے سرکاری ٹوئٹر پیج سے ٹویٹ کیاکہ ابرار احمد کو فرقہ وارانہ عدم اطمینان پھیلانے کے الزام میں معطل کر دیا گیا ہے۔یہ معطلی اس معاملے کی تفتیش مکمل ہونے تک رہے گی۔ اس ٹویٹ میں جامعہ نے فروغ انسانی وسائل کی وزیر کو بھی ٹیگ کیا ہے۔اسے پورے معاملے پر اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی جامعہ یونٹ نے اپنے ٹویٹ میں احمد پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تعلیم کے مقدس پیشے کو شرمسار کیا ہے۔اے بی وی پی جامعہ کے صدر شبھم رائے نے کہاکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسی یونیورسٹی میں ڈاکٹر ابرار جیسے استاد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے، جو طالب علموں کے دماغ میں زہر گھولتے ہیں۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں