6

اولمپک کاالتوا،پاکستانی ایتھلیٹس کے دل ٹوٹ گئے

بھرپور ٹریننگ جاری تھی، موجودہ حالات میں فیصلہ درست ہے،ارشد۔ فوٹو: فائل

کراچی: اولمپک کے التوا سے پاکستانی ایتھلیٹس کے دل بھی ٹوٹ گئے، جیویلن تھروور ارشد ندیم کو عالمی اسٹیج پر اپنا جادو جگانے کیلیے ایک سال انتظار کرنا پڑا تھا، کورونا وائرس کی وجہ سے دوسری مرتبہ ان کی ٹریننگ میں خلل آیا، وہ اب میاں چنوں میں اپنے بچوں کے ساتھ ہیں۔

22 سالہ ارشد ندیم کو اولمپکس کیلیے براہ راست  کوالیفائی کرنے والے پاکستان کے پہلے جیویلین تھروور کا اعزاز اس وقت حاصل ہوا جب انھوں نے گذشتہ برس ساؤتھ ایشین گیمز میں 86.29 میٹر مارک عبور کیا تھا، ان کا ہدف نیزے کو 90 میٹر کی دوری پر پھینکنے کا ہے اور اولمپکس میں وہ یہ کارنامہ انجام دینے کیلیے پْراعتماد بھی تھے۔

ٹوکیو اولمپکس کے ایک برس التوا کی خبر سے انھیں کافی مایوسی ہوئی، جس کے بعد ٹریننگ کا سلسلہ موقوف کرتے ہوئے میاں چنوں میں اپنے گھر واپس لوٹنا پڑا، وہ واپڈا فیکلٹی میں کوچ فیاض بخاری کی نگرانی میں ٹریننگ کررہے تھے۔

2018 کے ایشین گیمز برانز میڈلسٹ ارشد ندیم نے ’’ایکسپریس ٹریبیون‘‘ سے بات چیت میں کہا کہ یہ ہرکسی کیلیے مشکل وقت ہے، میں اس سے قبل چین میں بھی ایسی ہی صورتحال دیکھ چکا جہاں جنوری میں ٹریننگ کے دوران کورونا وائرس کی وجہ سے ہمیں وطن واپس لوٹنا پڑا تھا مگر میں نے یہاں پر بھی ٹریننگ کا سلسلہ جاری رکھا، اب اولمپکس گیمز ملتوی ہونے سے مجھے کافی افسوس ہوا مگر موجودہ صورتحال میں یہ ایک درست فیصلہ ہے۔

 





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں