3

کوروناوائرس: خودکو اور دوسروں کو نقصان سے بچانا ضروری،مسجدوں میں اجتماعی نماز سے گریز کیا جائے: مولاناارشدمدنی– News18 Urdu

جمعیتہ علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہاکہ خودکو اور دوسروں کو نقصان سے بچانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کو ضررسے بچانا شرعا ضروری ہے اور مسجدوں میں اجتماعی نماز سے گریز کیا جائے۔ یہ اپیل انہوں نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں کی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated:
    Mar 26, 2020 11:38 PM IST
مولانا ارشد مدنی

خودکو اور دوسروں کو نقصان سے بچانے کی اپیل کرتے ہوئے جمعیتہ علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہاکہ دوسروں کو ضررسے بچانا شرعا ضروری ہے اور مسجدوں میں اجتماعی نماز سے گریز کیا جائے۔ یہ اپیل انہوں نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس ایک انتہائی مہلک بیماری ہے، صحت کے ماہرین اورڈاکٹروں کا متفقہ طورپر کہنا ہے کہ کسی متاثرہ شخص کی قربت اس کے پھیلنے کا سبب بنتی ہے۔ لاک ڈاؤن یعنی مکمل طورپر بندی اسی لئے کی جاتی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے قریب نہ جائیں اور اپنے اپنے گھروں میں ہی ر ہیں، یہ ایک متعدی بیماری ہے۔ چنانچہ اس سے شدید اجتماعی ضررکا اندیشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ  شرعی طورپر خودکو اور دوسروں کو ضررسے بچاناضروری ہے اس صورت میں مسجد میں یاکسی اورجگہ جمعہ کی نماز کے لئے جمع ہونا قطعی مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم امت مسلمہ سے اپیل کرتے ہیں کہ مسجد میں خادم، موذن اورامام کے علاوہ اورایک آدمی یعنی بشمول امام چارافرادنمازجمعہ اداکرلیں اورخطبہ مختصرکیا جائے۔ ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ وزارت صحت کے علاوہ حکومت نے بھی کسی طرح کے اجتماع کو ممنوع قراردیا ہے اور اس نے اپنے آڈرکی دفعہ 9 میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ تمام لوگ مذہبی مقامات کو اپنے اجتماعات کیلئے بند رکھیں اس لئے محتاط رہنا چاہئے۔ انسانی زندگی کی حفاظت کے لئے شرعی ہدایات کو ملحوظ رکھیں جذبات کے بجائے شریعت کی منشاء کے مطابق عملکریں۔

انہوں نے کہاکہ انسانیت کی بنیادپر مذہب سے اوپر اٹھ کر محلہ وپڑوس میں موجود غریب اورمعاشی طورپر کمزور افرادکا بطورخاص خیال رکھاجائے کیونکہ اللہ کے غصہ سے نجات حاصل کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ غریب ونادارلوگوں کے ساتھ حسن سلوک بھی ہے، حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈاکرنے والاہے، مولانامدنی نے کہا کہ حکومت کو بھی غریب اورمحروم طبقات کے لئے کوئی ایسی حکمت عملی تیارکرنی چاہئے جس سے کوئی غریب بھوکا نہ رہ جائے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں