6

کورونا بحران کے اس گھڑی میں مرکزی اور ریاستی حکومتیں عوام کا زیادہ خیال رکھیں :ایس ڈی پی آئی

نئی دہلی :26؍مارچ( پریس ریلیز)سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے آج جاری ایک بیان میں ملک بھر میں 21دن تک لاک ڈائون کے اچانک اعلان کے بعد ملک بھر میں عوام کی سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ذریعہ بنیادی لوازم کے مناسب انتظامات کو یقینی بنائے بغیر لاک ڈائون کا نفاذ کرکے لاکھوں لوگوں کی زندگیاںتقدیر پر چھوڑ دی گئی ہیں۔کورونا وائرس سے متاثرہ ملک کو سہارا دینے والا ایک معاشی پیکیج ابھی تک جاری نہیں کیا گیا ہے اور جو مرکزی حکومت نے یقین دلایا ہے وہ عام لوگوں کی پریشانیوں اور اضطراب پر قابو پانے کیلئے کافی نہیں ہے۔کل مرکزی وزیر پرکاش جاویڈکر نے حکومت کی پالیسی کا اعلان کیا ہے کہ 80کروڑ افراد کو اگلے تین ماہ تک گیہوں 2روپئے فی کلو اور چاول 3روپئے فی کلو فراہم کیا جائے گا۔ دریں اثناء ، کیرلا اور دہلی جیسی کچھ ریاستی حکومتیں سب کیلئے مفت راشن کے زیادہ بہتر وعدوں کے ساتھ آگے آئیں ہیں۔ تاہم ، ناکافی ہونے کے باوجود سرکاری طور پر اعلان کردہ ہر اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی نے بدعنوانی ، اقربا پروری کی وجہ سے بر وقت حقیقی مستحقین تک پہنچنے والے امداد کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی قومی سکریٹری ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی نے کہا کہ کل صبح سے دہلی کی سڑکوں پر ضروری اشیاء کی سپلائی کم سے کم ہے اور غریب افراد جب ضروری اشیاء خریدنے باہر آتے ہیں تو انہیں مغرور پولیس اہلکار انہیں بے رحمی سے پیٹتے ہیں۔ چھوٹے موٹے ٹھیلے والوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہے اور بہت سے آن لائن گروسیری جیسے بگ باسکٹ اور امیزان وغیرہ نے کام کرنا اور آرڈر لینا بند کردیا ہے۔ یہ وزیر اعظم کے قوم کے خطاب کے دوران کئے گئے وعدوں اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال کے اس وعدے کے برخلاف بھی ہے جس میں انہوں نے عوام کو ان کے گھروں تک ضروری اشیاء پہنچایا جائے گا۔ ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی نے پی ایم او ، دہلی سی ایم اور دہلی پولیس کمشنر پر زور دیا ہے کہ وہ سخت مشکلات اور کورونا بحران کے اس دور میں عوام کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے شہری لاک ڈائون پر عمل کرنے اور سماجی دوری کو برقرار رکھنے کے حکومت کی ہدایات پر عمل کرنے کیلئے تیار ہیں ، جبکہ حکومت گھر کے اندر معمول کی زندگی کو یقینی بنانے کیلئے پابند ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہت سارے طلباء اور مزدور شاہراہوں پر پیدل چلتے ہوئے سینکڑوں کلو میٹر دور اپنے گھروں تک پہنچنے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے پاس کھانے کیلئے بھی پیسہ نہیں ہے ، یہ انتہائی غیر انسانی رویہ ہے جس کیلئے مرکزی اور متعلقہ ریاستی حکومتیں ذمہ دارہیں۔ ڈاکٹر رحمانی نے یہ بھی کہا کہ جبکہ دہلی حکومت روزانہ مزدوری کرنے والوں کو 5000روپئے ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے اس غیر منظم سیکٹر تک روپئے کیسے پہنچایا جائے گا ان طریقوں کا اعلان نہیں کیا ہے کیونکہ ان میں سے زیادہ تر مزدوروں کے پاس بینک اکاوئنٹس نہیں ہیں۔ اسی طرح مختلف ریاستوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ابھی تک مفت یا سبسڈی والے راشن کی فراہمی کے وعدوں کو عملی شکل نہیں دیا گیا ہے ۔ یہ ایک سنگین صورتحال ہے ، اگر اس پر فوری توجہ نہیں د ی گئی تو افراتفری، انتشار اور لاقانونیت کا ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔ ایس ڈی پی آئی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ پیشہ ورانہ انداز میں اس وبائی سے مرض سے نمٹنے کیلئے مرکزی حکومت کو ایک مستحکم یکساں قومی منصوبے کے ساتھ سامنے آنا ہوگا۔ اس کے برعکس جبکہ ملک کو مکمل طور پر لاک ڈائون کا حکم دیا گیا ہے اور تمام سماجی ، مذہبی اور سیاسی تقریبات پرپابندی ہے اور ایسے میں اتر پردیش وزیر اعلی کو ایودھیا میں رام مورتی کی تنصیب کیلئے ایک بہت بڑے مذہبی اجتماع میں شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ لاک ڈائون کے آڑ میں بی جے پی بے شرمی سے اپنے سیاسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ ایس ڈی پی آئی مقامی رہائشیوں کی فلاحی تنظیموں اور این جی اوز اور اسی طرح کے دیگر امدادی گروپوں سے تعاون حاصل کرکے کمزور طبقات تک پہنچنے کیلئے ایک فول پروف پروگرام پر زور دیتی ہے۔ پولیس کو چاہئے کے وہ عام آبادی سے نمٹنے کے دوران اپنے آ پ پر قابو رکھے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مقامی دوکانیں اور میڈیکل شاپس عام طور پر کام کریں۔ ضرورت مند ، غریب اور بھوکے لوگوں کو پیٹنے سے صورتحال بگڑ جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے یہ بھی درخواست کی کہ بینکوں کو اپنے اے ٹی ایم میں مناسب نقد رکھنے کو یقینی بنایا جائے ۔ ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی نے دہلی پولیس پر بھی زور دیا کہ وہ اس ہنگامی صورتحال کا استعمال کرکے اور سیاسی انتقام لینے کیلئے لوگوں کو گرفتار کرنے اور انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش نہ کرے جیسا کہ انہوں نے شاہین باغ میں 7افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان میں سے 3افراد کے خلاف دفعہ 188کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی مطالبہ کرتی ہے کہ حراست میں لئے گئے اور گرفتار شدہ تمام مرد و خواتین کو فوری رہا کیا جائے ۔ دریں اثناء، انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا وائرس کے مدنظر سماجی دوری برقرار رکھیں اور سماج کے موجودہ تباہی سے بچنے تک گھر کے اندر ہی رہنے کے اپنے طبی برادری اور ایسے دیگر ایجنسیوں کے ہدایات پر عمل کریں۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں