اردو آبادی کی بیداری نے شرپسندوں کی سازش کو ناکام بنادیا، ہمیں ہمیشہ بیدار رہنے کی ضرورت ہے : نظرعالم


 

دربھنگہ:( پریس ریلیز)۔ آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے سی ایم لا کالج میں گذشتہ دنوں سے جاری اُردو کے خلاف چل رہی سازش کے ناکام ہونے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس مہم میں شامل تمام افراد اور تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی۔ مسٹرنظرعالم نے پریس کے لئے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ لاکالج کے صدردروازہ پر پھر سے اردو میں نام آویزاں کیا جانا دراصل متھلانچل کی گنگاجمنی تہذیب، روایت اور مشترکہ ثقافت کی جیت ہے، انہوں نے کہاکہ اردو آبادی نے بطور خاص اس معاملہ میں جس بیداری کا ثبوت پیش کیا ہے وہ قابل تحسین ہے ساتھ ہی وہ تمام لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اس مہم میں شامل ہوکر پرامن فضا میں نفرت کا زہرگھولنے والوں کی سازش کو ناکام بنادیا۔ انہوں نے متھلا یونیورسٹی کے وائس چانسلرراجیش سنگھ اور رجسٹرار وغیرہ کا شکریہ ادا کیا۔ مسٹرنظرعالم نے بطور خاص سابق مرکزی وزیرڈاکٹرشکیل احمد، بہاراقلیتی کمیشن کے چیئرمین پروفیسریونس حکیم، ابھئے کمار(جے این یو) کاشکریہ ادا کیا جنہوں نے اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اعلیٰ ذمہ داروں سے گفتگو کرکے مسئلہ حل کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ واضح ہوکہ آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے اس پورے معاملہ کو بڑی مضبوطی سے اٹھاتے ہوئے نہ صرف وائس چانسلر، ضلع مجسٹریٹ، اقلیتی کمیشن، وزیراعلیٰ بہار کو یاد داشت سونپی بلکہ ٹاؤن تھانہ میں اس سازش میں شامل لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لئے درخواست بھی دی۔ دوسری جانب بیداری کارواں کے سرپرست شکیل احمد سلفی نے لا کالج کے باب الداخلہ پر پھر سے اُردو میں نام لکھے جانے پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ جس طرح شرپسند اور فرقہ پرست عناصر نے زبان کے نام پر ماحول بگاڑنے کی سازش کی تھی۔ انتظامیہ کی بروقت کارروائی سے ان کی سازش ناکام ہوگئی جو یقینا باعث اطمینان ہے۔ انہوں نے اس مہم میں شامل تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے معاملہ کی نزاکت کو بروقت سمجھتے ہوئے نام نہاداردو تنظیموں کے اقدام کا انتظام کئے بغیر مہم چھیڑ دی اور کامیابی حاصل کی۔ شکیل سلفی نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ وہ افراد اور تنظیمیں جو اُردو کے نام پر عزتٰ و شہرت حاصل کرتی رہی ہیں اور ایسے لوگ جو خود کو اردو کا خادم اورتحریک کاربتاتے نہیں تھکتے اور اردو سے متعلق تمام سرکاری پروگراموں میں اسٹیج پر یا صف اول میں نظرآتے ہیں۔ اس دوران ایسے غائب رہے جیسے ان کا وجود ہی نہ ہو۔ انہوں نے مسٹرنظرعالم، ذیشان اختر قاسمی،مطیع الرحمن، ہیرانظامی، راحت علی، شاہنواز عاقل، محمدبشر،احمرضیاء، راجا خان، سونو اطہر،عبداللہ، محمد طالب، رضوان سمیت ان نوجوانوں کو بطورخاص مبارکباد دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ٹوئٹرٹرینڈ چلاکر بیداری پیدا کرنے اور متعلقہ افراد کو جھنجھوڑنے کا اہم کام کیا۔ شکیل سلفی نے کہا کہ ہمیں کسی زبان سے بیر نہیں لیکن اس وقت جس طرح متھلاکلچر کے نام پر سیاست کی گئی اور اس میں اردو نام والے افراد بھی شامل ہوئے وہ نہ صرف بے وقت کی راگنی تھی بلکہ اس تحریک کو سبوتاز کرنے کی قابل مذمت کوشش بھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اُردو آبادی کے بروقت اقدام سے نہ صرف زبان کو اس کا حق ملا بلکہ نفرت پھیلانے والوں کو بھی منہ کی کھانی پڑی۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *