دہلی حکومت کی پول کھلی،مزدوروں کی شکایت،کوئی امدادنہیں ہورہی ہے


نئی دہلی22مئی(بی این ایس )
لاک ڈاؤن میں پھنسے بہار کے تارکین وطن محنت کشوں کی حالت قابل رحم ہو گئی ہے۔ مزدور ہر حال میں اپنی ریاست لوٹناچاہتے ہیں،دہلی حکومت لمبے چوڑے دعوے کررہی ہے لیکن مزدوراسی طرح پریشان ہیں جس میںسب سے بڑی دقت یہاں دو وقت کا کھانا بھی نصیب نہیں ہو رہاہے۔ مزدوروں کی اس حالت نے دہلی حکومت کے کھانا اور راشن باٹنے کے دعووں کی پول کھول کر رکھ دی ہے۔بھاسکر ٹیم نے بہار لوٹ رہے مزدوروں سے دہلی حکومت سے راشن اور کھانا ملنے کے باوجود گھر جانے کی وجہ کی جاننے کی کوشش کی توکجریوال کے دعووں کی پول کھل گئی۔مشرقی دہلی کے ویسٹ ونود نگر میں واقع سرکاری سروودیہ بال اسکول کے باہر اور اندر لائنوں میں لگے مہاجرین نے کہاہے کہ وہ اس لیے اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں کیوں یہاں بھوک سے مر جائیں گے۔ اپنے خاندان کے ساتھ دربھنگہ جا رہے ونود کمار اور راجیش کمار رائے نے بتایاہے کہ انہیں ایک بھی دہلی میں راشن نہیں ملا۔ ایسے میں وہ خاندان کو لے کر گاؤں جا رہے ہیں۔کام دھندا چھوٹ گیا ہے تو یہاں رہ کر بھوک سے مر جائیں گے۔بہار کے ارریہ ضلع کے جتندر کمار منڈل، راجیش منڈل، پرنس کمار، نریندر کمار، وریندر منڈل نے بتایا کہ وہ گوپال پور میں رہتے تھے۔ لاک ڈاؤن کے دوران انہیں صرف ایک بار ایک کلو چاول اور 4 کلو گندم ملے تھے۔اس کے بعد وہ راشن کے لیے بھٹکتے رہے۔ لیکن کسی نے راشن نہیں دیا وہ سرکاری افسروں کے چکر لگاتے رہے۔ لیکن کسی نے مددنہیں کی۔ایسے میں دہلی حکومت کی جانب سے اسکولوں میں بانٹے جا رہے کھانے کے لیے لائن میں لگتے تھے۔ لیکن جب تک نمبر آتا تھا اس وقت تک کھانا ختم ہو جاتاتھا۔ ایسے میں انہوں نے بہار سے رشتہ داروں سے ادھار پیسے منگوائے۔کھانے کا انتظام کیا۔ ابھی کام دھندا چھوٹ گیا ہے تو گھر جا رہے ہیں۔ یہی بات سیتامڑھی کے پرمود،مہتو،راج کشور مہتو، حسن، ببلو، فردوس اور راجیش کمار رائے نے بھی کہی ہے۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *