کورنٹائن سینٹر سے فرار ہوکر مزدوروں نے لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کی، ریپ کا ویڈیو بھی بنایا: جانیں پورامعاملہ– News18 Urdu


گاؤں کے کورنٹائن سینٹر سے فرار ہوکر 19 سالہ لڑکی کے ساتھ جو درندگی کی گئی اس سے گاؤں میں تناؤ کا ماحول ہے۔

علامتی تصویر

لاک ڈاؤن کے دوران بہار کے روہتاس ضلع میں لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ریپ کا الزام کورنٹائن کئے گئے دو مزدوروں پر لگا ہے۔ یہ واقعہ یہاں کے داوتھ تھانہ علاقے کے جوگنی گاؤ کا ہے۔ جانکاری کے مطابق دو مائیگرینٹ مزدوروں نے کورنٹائن سینٹر سے بھاگ کر گاؤں کی ایک لڑکی کا ریپ کیا۔ الزام ہے کہ اس میں گاؤں کے چار دیگر لڑکوں نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ ملزموں نے اجتماعی عصمت دری کے دوران متاثرہ لڑکی کا ویڈیو بھی بنایا۔

واردات کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فورا کارروائی کرتے ہوئے ملزم یعنی دونوں مزدوروں کو گرفتار کرلیا ہے۔ وہیں متاثرہ کو میڈیکل جانچ کیلئے ساسارام صدر اسپتال بھیجا گیا ہے۔

واقعے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ داوتھ میں جگنارائن سنگھ ہائی اسکول میں مائیگرینٹ مزدوروں کو کورنٹائن کیا گیا ہے۔ اس سینٹر میں رکھے گئے دو منچلے یہاں سے فرار ہوگئے اور انہوں نے اس گھنونی واردات کو انجام دیا ہے۔ اس سلسلے میں متاثرہ لڑکی نے تھانے میں شکایت درج کرائی ہے۔ اس کے مطابق وہ حاجت کیلئے کھیت میں گئی ہوئی تھی۔ تبھی کورنٹائن کئے گئے نچل یادو اور سریش یادو وہاں آئے اور انہوں نے لڑکی کو پکڑ لیا اور باری۔باری اس کا ریپ کیا۔ الزام یہ بھی ہے کہ ملزموں نے اس دوران فون کرکے اپنے چار دیگر ساتھیوں کو بھی بلایا۔ اس گھنونوے کام کے دوران ملزموں نے موبائل سے متاثرہ لڑکی کا ویڈیو بھی بنایا اور تصویریں بھی کھنیچیں۔

معاملہ سامنے آنے پر پولیس نے فورا کارروائی کرتے ہوئے اہم ملزموں کو گرفتار کر لیا۔ ساتھ ہی چار دیگر کی گرفتاری کیلئے چھاپہ ماری چل رہی ہے۔ گرفتار ملزموں سے پوچھ۔گچھ کی بنیاد پر پولیس فرار چار دیگر اتھیوں کی تلاش کررہی ہے۔ اس سلسلے میں بکرم گنج کے ڈی سی پی راج کمار نے کہا کہ پولیس نے معاملے کی تفتیش شروع کردی ہے اور اہم ملزموں کی گرفتاری ہوچکی ہے۔ فرار دیگر ملزموں کو بھی جلد قانون کے شکنجے میں لے لیا جائے گا۔

گاؤں کے کورنٹائن سینٹر سے فرار ہوکر 19 سالہ لڑکی کے ساتھ جو درندگی کی گئی اس سے گاؤں میں تناؤ کا ماحول ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *