حکومت کی تنگ نظری سے پھیکا ہوا خوشی کا رنگ– Urdu News


مدھیہ پردیش میں کورونا کے قہر میں سادگی کے ساتھ حکومت کی سخت نگہداشت میں عید الاضحی کا تہوار منایا جا رہا ہے۔ صوبہ میں کورونا مریضوں کا ہندستہ بتیس ہزار کو پار کر چکا ہے ۔صوبہ میں  ابتک کورونا کی وبائی بیماری سے  آٹھ سو باہتر لوگوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ بائیس ہزار سینتس مریض صحتیاب ہوکر اپنے گھر بھی جا چکے ہیں ۔ اگست کے پہلے تین دن میں عید الاضحی کے ساتھ رکشابندھن کا تہوار ہے۔ حکومت نے کہیں پر کورونا کا حوالہ دیتے ہوئے اکتیس جولائی کی شب سے تین دن کا لاک ڈاؤن کردیا ہے تو کہیں پر اسی دن لاک  ڈاؤن کو ہٹانے کا فیصلہ کیاگیا ہے جس سے سماج تنظیموں میں حکومت کے فیصلہ کے خلاف ناراضگی سامنے آنے لگی ہے۔

مدھیہ پردیش میں کورونا کے سب سے زیادہ معاملے اندور میں اس کے بعد بھوپال میں ہیں ۔شیوراج سنگھ حکومت نے بھوپال میں چوبیس لائی کی شب سے ہی دس دن کے لاک ڈاؤن کا نفاذ کردیا ہے جبکہ اندور میں اکتیس جولائی کی شب سے پانچ دن کے لئے بازاروں کو ان لاک کردیا گیا ہے۔ یہیں نہیں جبلپور میں بھی اکتیس جولائی کی شب  سے اٹھاون گھنٹے کے لاک ڈاؤن کا نفاذ کیاگیا ہے اور تین دن بعد یعنی تین اگست کی صبح لاک ڈاؤن ہٹایا لیا جائے گا اور اسی دن رکشا بندھن کا تہوار ہے ۔

مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ تہوار کے موقعہ پر حکومت کو لاک ڈاؤن میں ڈھیل دینا چاہیئے تاکہ مسلم اپنی عید اور ہندو بھائی رکشا بندھن کا تہوار منا سکیں ۔ حکومت آن لائن شاپنگ کی بات کررہی ہے لیکن حکومت کو یہ نہیں معلوم کہ ملک کی ستر فیصد آبادی ابھی آن لائن شاپنگ کے ہنر سے واقف نہیں ہے ۔گاؤں کے لوگ آن لائن شاپنگ کو نہیں جانتے نہیں ہیں ۔ سبھی لوگ جب حکومت کے احکام پر عمل کر رہے ہیں اورسوشل ڈسٹنس  میں اپنی زندگی کو گزار رہے ہیں تو تہوار بھی سوشل ڈسٹنس کے ساتھ منانے کی آزادی دینا چاہیئے ۔

مدھیہ پردیش مسلم سماج کے کارگزارصدر جاوید بیگ کہتے ہیں کہ حکومت کے سبھی احکام کو سبھی لوگ مانتے ہیں اور جب حکومت خود یہ بات کہہ رہی ہے کہ ہمیں کورونا کے ساتھ جینا ہوتا تو ہندو اور مسلمان کو اتنی تو آزادی ہونا چاہیئے کہ محبتوں کا تہوار لوگ سوشل ڈسٹنس کے ساتھ منا سکیں ۔ وہیں مدھیہ پردیش علما بورڈ کے صدر مولانا سید انس علی ندوی کہتے ہیں کہ کورونا کی آڑ میں حکومت جو کچھ کررہی ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ جبلپور میں تین دن کا لاک ڈاؤن کیا جاتا ہے اور اسی دن لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ لیاجاتا ہے جس دن رکشا بندھن ہے۔ جب رکشا بندھن کے دن لاک ڈاؤن کھولا جا سکتا ہے تو دو دن پہلے کیوں نہیں یہ ایک اہم سوال ہے؟اس سے حکومت کی تنگ نظر ی صاف نظرآتی ہے۔ہمارا تو مطالبہ ہے کہ حکومت جس طرح سے ہندو بھائیوں کو رکشا بندھن کا تہوار منانے کے لئے راہ ہموار کر رہی ہے اسی طرح سے دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی سوشل ڈسٹنس کے ساتھ اپنی خوشیوں کو منانے کا موقعہ دے ۔حکومت اپنی تنگ نطر ی سے ہماری خوشیوں کا رنگ پھیکا نہ کرے۔

مدھیہ پردیش کانگریس کے ترجمان بھوپیند ر گپتا کہتے ہیں کہ تہوار آپسی میل محبت کا پیغام دیتے ہیں اور سبھی لوگ اپنی قیمتی زندگی کو بچاتے ہوئے سوشل ڈسٹنس میں تہوار منانا چاہتے ہیں لیکن یہ حکومت ہر جگہ اپنی تنگ نظری کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔ اگر حکومت نے اپنی سیاسی ریلیوں پر یہ قدغن لگایا ہوتا تو آج مدھیہ پردیش میں کورونا کی حالت اتنی تشویشناک نہیں ہوتی ۔ آج سرکار  اسپتا ل میں ہے تو اس کے لئے صوبہ کے عوام نہیں بلکہ سرکار کے لوگ اور اس کے وزیر خود ذمہ دار ہیں ۔اب جب صوبہ میں کورونا کنٹرول سے باہر ہو رہا ہے تب وزیروں اور ممبران اسمبلی پر ریلی اور جلسہ کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ عوام سب جانتے ہیں اور اس کا جواب عوام اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں دیں گے ۔

وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ کانگریس کے پاس کچھ کرنے کو بچا نہیں ہے ۔اپنی زمین مدھیہ پردیش میں کھو چکی ہے تو عوام کو بھڑکانے کا کام کررہی ہے ۔پندرہ مہینے میں کمل ناتھ حکومت نے کام کیا ہوتا تو آج مدھیہ پردیش میں کورونا کی یہ حالت نہیں ہوتی ۔تب سرکار تبادلہ انڈسٹری میں مصروف تھی اب شیوراج سرکار کام کررہی ہے تو یہ لوگ اپنی چھاتی پیٹ رہے ہیں ۔ کوئی بھی اچھا کام انہیں برداشت نہیں ہوتا ہے ۔ تہوار سے پہلے مدہبی رہنماؤں کے ساتھ بات کی گئی ہے ۔سبھی کو سوشل ڈسٹنس کے ساتھ گھروں میں رہ کر تہوار منانے کی آزادی دی گئی ہے ۔ اب تو سرکار نے یہ بھی فیصلہ لیا ہے کہ لاک ڈاؤن کا نفاذ کرائسس مینجمنٹ کمیٹی نہیں کر سکیں گی بلکہ انہیں اب حکومت سے اجازت لینا ہوگی ۔کانگریس کو چاہیئے کہ جوڑنے کا کام کر ے توڑنے کا نہیں ۔
حکومت اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے چاہے جو بھی جواز پیش کرے لیکن یہ بات لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے کہ جب جبلپور  میں انہیں تین دنوں میں ہی لاک ڈاؤن کا نفاذ کیوں کیا جاتا ہے جب ایک مذہب کے ماننے والوں کا تہوار ہوتا ہے اور اسی دن لاک ڈاؤن کیوں ہٹایا جاتا ہے جس دن کسی اور مذہب کے ماننے والوں کا تہوار ہوتا ہے ۔یہی کچھ اندور میں کیاگیا ہے جس کو سماجی تنظیمیں سمجھنے سے قاصر ہیں ۔کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *