ننھے ملیالی لڑکے محمد فائزکا مکالمہ ہوا سپرہٹ، سوشل میڈیا پر ہو رہا ہے وائرل– Urdu News


محمد فائز کیرالہ کے ضلع ملا پورم کےگاؤں کونڈتی میں چوتھی جماعت کے طالب علم ہیں۔ محمد فائز کے دو منٹ کے اس ویڈیو کو ان کی بہن نے خلیج میں مقیم ان کے والد کے واٹس اپ پر پوسٹ کیا، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے اور سپرہٹ ہو رہا ہے۔

ننھے ملیالی لڑکے محمد فائزکا مکالمہ ہوا سپرہٹ، سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے ویڈیو

‘ہار کر جیتنے والے کو بازیگر کہتے ہیں، ‘شاہ رخ خان کی فلم ‘بازیگر’ کے اس مقبول ڈائیلاگ سے کون واقف نہیں۔ اس فلم میں ان کا کردار اسی مکالمہ پر مبنی ہے۔ کچھ اسی طرح کی بات کیرالہ سے تعلق رکھنے والے محمد فائز کی۔ انہوں نے کاغذ کے پھول کی ترکیب بتانے والی خود کی ایک ویڈیو بنائی، جس میں وہ صحیح طریقہ سے پھول بنانے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ویڈیو کے آخر میں وہ ملیالم زبان میں یہ کہتے ہیں کہ “کوئی کامیاب ہوتے ہیں اور کوئی نہیں۔ میں نے تھوڑا الگ سا بنایا، لیکن یہ کوئی مسئلہ نہیں!”۔

പൂവുണ്ടാക്കുന്ന വീഡിയോ അപ് ലോഡ് ചെയ്തതിലൂടെ വൈറലായ മലപ്പുറം കുഴിമണ്ണ കുഴിഞ്ഞൊളം പറക്കാട് സ്വദേശി മുഹമ്മദ് ഫായിസ് ഇന്ന് കലക്ടറേറ്റിലെത്തി. തനിക്ക് സമ്മാനമായി ലഭിച്ച 10313 രൂപ മുഖ്യമന്ത്രിയുടെ ദുരിതാശ്വാസ നിധിയിലേക്ക് സംഭാവന ചെയ്തു. ലക്ഷക്കണക്കിന് ആളുകൾ ഈ വീഡിയോ കാണുകയും പതിനായിരത്തിലധികം പേർ ഷെയർ ചെയ്യുകയും ചെയ്തു. പരാജയത്തിൽ തളരരുതെന്ന ഒരു നല്ല സന്ദേശമാണ് ഫായിസ് നൽകിയത്. മിൽമ ഫായിസിൻ്റെ വാക്കുകൾ പരസ്യത്തിനായി ഉപയോഗിക്കുകയും ഫായിസിന് 10…

محمد فائز کیرالہ کے ضلع ملا پورم کے گاؤں کونڈتی میں چوتھی جماعت کے طالب علم ہیں۔ محمد فائز کے دو منٹ کے اس ویڈیو کو ان کی بہن نے خلیج میں مقیم ان کے والد کے واٹس اپ پر پوسٹ کیا۔ فائزکے والد نے اس ویڈیو کو اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے گروپس میں شیئرکیا، اس طرح یہ ویڈیو وائرل ہو گئی اور ننھے فیض نے اپنی ناکام کوشش کی، جس معصومیت کے ساتھ ایک لائن میں بیان کیا، اسے بہت پسند کیا جارہا ہے۔ واٹس اپ کے بعد نیٹزنس نے اس ویڈیو کو یوٹیوب سمیت دوسرے سوشل میڈیا پر بھی شئیر کیا اور اس طرح محمد فائز کی ویڈیو اور خاص طور پر ان کے مکالمے نے ایڈور ٹائزنگ ایجنسیوں کو اپنی جانب راغب کیا اور اس طرح انہوں نے اسے اپنے اشتہارات کی مقبولیت بڑھانےکے لئے استعمال کرنا شروع کیا۔ پہلا اشتہار ریاست کیرالہ کا مِلک مارکیٹنگ کوآپریٹیو۔ ملما کا تھا، جس میں انہوں نے محمد فائز کی ویڈیو سے  لی ہوئی لائن کو یوں پیش کیا۔


“کوئی کامیاب ہوتا ہے اورکوئی نہیں۔ تاہم ہر کوئی بہترین چائے پانے میں کامیاب ہوگا۔ اگر دودھ ملما کا ہو۔” لیکن ملما نے اس اشتہار کے لئے نہ تو محمد فائزکی اجازت لی گئی اور نہ انہیں اس کا کوئی کریڈٹ دیا گیا۔ اس اشتہار کے انٹرنیٹ پر مقبول ہوتے ہی صارفین نے ملما کے اس عمل پرتنقید کرنا شروع کیا، جس کے بعد ملما نے محمد فائز کے لئے ایک ٹیلی ویژن سیٹ اور 10 ہزار روپئے بطور تحفہ ان کےگھر روانہ کیا، جسے محمد فائز کے خاندان نے قبول کرتے ہوئے اس کے ایک حصہ کو چیف منسٹر ریلیف فنڈ اور بقیا رقم غریب بچوں کی تعلیم کے لئے خرچ کرنے کا ارادہ کیا۔ حکومت کیرالہ کے محکمہ صحت نے بھی محمد فائز کے مقبول عام مکالمہ کورونا سے آگاہی  سے متعلق اشتہار میں استعمال کیا۔ ان کا سلوگن کچھ اس طرح تھا۔” کوئی کامیاب ہو تے ہیں اور کچھ نہیں، لیکن آپ اسے بالکل قریب نہ آنے دیں۔”



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *