عقیدہ ختم نبوت ؐ، حجیت حدیث اور حُبِّ صحابہ ؓ امت مسلمہ کے وجود اور بقا کا ضامن: علماء | Online Urdu News Portal


جمعیۃ علماء شہر ومجلس تحفظ ختم نبوت ؐ کانپور کے زیر اہتمام آن لائن تحفظ ختم نبوتؐ، تحفظ حدیث و مدح صحابہؓ کانفرنس کا انعقاد
کانپور:18؍اکتوبر(پریس ریلیز)جمعیۃ علماء شہر ومجلس تحفظ ختم نبوت کانپور کے زیر اہتمام مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی نور اللہ مرقدہ کی یاد میں آن لائن تحفظ ختم نبوتؐ وتحفظ حدیث و مدح صحابہؓ کانفرنس جمعیۃ علماء کانپورکے جنرل سکریٹری مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی کی نگرانی میں منعقد ہوئی۔کانفرنس میں ملک کے معتبر علماء کرام نے تحفظ ختم نبوتؐ،تحفظ حدیث و مدح صحابہ ؐکے بارے میں مدلل وتفصیلی خطاب کرکے قادیانیت،انکار حدیث و شکیلیت،گوہر شاہی اوربغض صحابہ ؓجیسے فتنوں سے عوام کو آگاہ کیا اور ان سے خود کو بچنے اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھنے کی تلقین کی۔
کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مدرسہ اشرف المدارس ہردوئی کے شیخ الحدیث مولانا شاہ افضال الرحمن قاسمی سرپرست مجلس تحفظ ختم نبوت کانپور نے فرمایا کہ ختم نبوت امت محمدی کا بنیادی امتیاز ہے، اس سے پہلے جتنی بھی امتیں آئیں اللہ نے ان کو نبی اور رسول کی نعمت عطا فرمائی لیکن ختم نبوت کاشرف نہیں ملا۔ دین کا بنیادی سرچشمہ قرآن پاک اور حدیث پاک ہے، لیکن امت کی بنیاد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پرہے۔ اس امت کا وجود، بقا، استمرار اور تسلسل اسی وقت تک رہے گا جب تک ہم حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کا عقیدہ رکھیں گے۔جس طرح بیٹے کا وجود باپ سے ہوتا ہے، اسی طرح امت کا وجود نبوت سے ہوتا ہے اور نبیؐ کے بعد نبوت کا سلسلہ بند ہو گیا اب اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے گاتو اس امت کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔للہ نے قرآن میں فرمایا کہ آج کے دن ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا۔جب دین مکمل ہو گیا تو اپنے آپ یہ بات بھی سامنے آگئی کہ نبوت کا سلسلہ بھی بند ہو گیا۔ یہ اللہ پاک کا ہمارے اوپر بہت بڑا احسان ہے، ہم کبھی اس کے بارے میں سوچیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ سابقہ امتوں کے نبی جب دنیاسے چلے جاتے تو قومیں اور امتیں وحی کا انتظار کرتیں اور ان کی نظر آسمان پر ہوتی تھی کہ اب کوئی نیا حکم، نئی ہدایت اور نیا قانون آئے گا، اس لئے کہ نبوت کا سلسلہ چل رہا تھا، اب جب اللہ نے نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا تو اس فکر سے ہمیں مطمئن کر دیا کہ اب تمہیں کسی کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ختم نبوت کی وجہ سے ہمیں جو نعمتیں ملی ہیں سابقہ امتوں کو وہ نعمتیں نہیں ملی ہیں۔ نبوت کا سلسلہ اگر جاری رہتا توہمیں ہر وقت لگا رہتا کہ ابھی کوئی نئی شریعت اور نیا حکم آئے گا، ختم نبوت کے صدقہ کی وجہ سے ارکان دین بھی مکمل اور متعین ہو گئے ہیں، اب قیامت تک اس میں نہ کوئی کمی اور نہ کوئی اضافہ کی ترمیم ہوگی۔
جامع مسجد لال بنگلہ کے امام وخطیب مولانا خلیل احمد مظاہری نے فرمایا کہ نبوت انسان کی ضرورت ہے، اس ضرورت کی تکمیل کیلئے اللہ نے انتظام فرمایا، نبوت کا سلسلہ حضرت آدم ؑ سے شروع ہو کر حضرت محمد ﷺ پر آکر مکمل ہو گیا۔ اب جب نبوت کا سلسلہ بند ہو گیا تو کوئی نیا دین، نئی شریعت اورنیا نبی آنے والا نہیں ہے۔ اللہ کے نبیؐ اور ان کے ساتھیوں یعنی صحابہ کرامؓ نے اس سلسلے میں اتنا واضح طور سے ہمیں بتا دیا ہے کہ ہمیں کسی قادیانی، شکیلی، پرویزی،گوہر شاہی جیسے باطل فرقہ سے دھوکہ نہیں لگ سکتا ہے۔
کانفرنس کے روح رواں اور مجلس تحفظ ختم نبوت ؐ کانپور کے صدرمولانا امین الحق عبد اللہ اسامہ قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء شہر کانپور نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اللہ نے اس کائنات کو نبیؐ کے صدقے میں پیدا فرمایا، اگر نبیؐ نہ ہوتے تو نہ آسمان وزمین ہوتی، نہ آپ اورہم ہوتے نہ ہماری آل و اولاد، گھر بار اوردولت کی نعمت ہوتی۔جس نبیؐ کے صدقے میں یہ زمین و آسمان کی تمام نعمتیں ہمیں ملیں اس نبیؐ کی ختم نبوت پر ہمارے رہتے ہوئے ہمارے ملک وشہر میں کچھ لوگ ڈاکہ ڈالیں، گلی گلی گھوم گھوم کر ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کریں، نبیؐ کی احادیث کو من گھڑت باتیں قرار دیں اور نبی ؐ کے اولین شاگرد جانثار صحابہ کرامؓ کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناکر ان کیخلاف غلط فہمیاں پیداکریں اور ہم خواب غفلت میں مبتلا رہیں اس سے زیادہ بے غیرتی اور احسان فراموشی دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتی۔ہم نے جس نبی کا کلمہ پڑھا ہے اگر اس نبی کی نبوت پر آنچ آتی ہے تو اسے ہم برداشت نہیں کریں گے۔ یہ کسی عالم یا مفتی کا فتویٰ نہیں بلکہ سید الکونین جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے 14سو سال پہلے یہ فتویٰ دیا تھا کہ میرے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا اور دجا ل ہے۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں، ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ آپؐ کی ختم نبوت کا برملا اعلان کرتے ہوئے اس کے تحفظ کیلئے آگے بڑھیں اور جو آپؐ کی ختم نبوت ؐ پر ڈاکہ ڈالے اس کو کافر اور جھوٹا کہیں۔ اگر یہ اپنے اس کام میں لاپروائی برتیں گے تو اللہ کے یہاں پوچھ ہوگی اور یہ سوال ہم سے بھی ہوگا۔ بحیثیت امتی ہر ہر ایمان والے کی ذمہ داری ہے کہ نبیؐ کے ختم نبوتؐ، نبی ؐ کی احادیث اور حضرات صحابہ کرام ؓکا دفاع کریں۔
مولانا نے کہا میں نے اپنے والد گرامی حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمیؒ اور اکابرین کی لگن،کڑھن اور تڑپ دیکھی ہے۔وہ گاؤں گاؤں،قریہ قریہ،شہر شہر ان فتنوں کی سرکوبی اور علماء کرام و عوام کو بیدار کرنے کیلئے بے چین رہتے تھے۔ آج وہ ہمارے درمیان سے چلے گئے، اب ہماری ذمہ داریاں مزید بڑھ گئیں ہیں کہ ہم ان کی فکر کو اپنی فکر بنائیں اورکلمہ کی بنیاد پر ہم جو ذمہ داری عائد کی گئی ہے اس کو ادا کرنے کی کوشش کریں۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کانپورکے نائب ناظم مولانا امیر حمزہ قاسمی نے فرمایا کہ جو کوئی بھی اسلام کے علاوہ کسی دین کو لائے گا ہر گز قابل قبول نہیں، خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کے اوپر نازل ہونے والی کتاب خاتم الکتب ہے، آپؐ کی لائی ہوئی شریعت آخری شریعت ہے،نبیؐ کے ساتھ جتنی چیزیں آئیں ہیں ان سب کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ مولانا نے کہا کہ فتنوں کو پہچاننے کیلئے ہمارے اندر ایمانی حس ہونی چاہئے یعنی اگر کوئی دین کے نام پر اسلام میں غلط بات پیدا کرنے کی کوشش کرے تو ہم اس کو پہچان سکیں۔
کانفرنس کا آغاز قاری مجیب اللہ عرفانی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا، نظامت کے فرائض مسجد مسافرخانہ پریڈ کے امام وخطیب مولانا محمد اکرم جامعی نے انجام دیا۔محمد طہور بختیارنے نعت ومنقبت کا نذرانہ پیش کیا۔ کانفرنس کو سوشل میڈیا فیس بک اور یوٹیوب پر براہ راست نشر کیا گیا جس کے ذریعہ لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے آن لائن شرکت کی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کانپور کے ناظم مفتی اظہار مکرم قاسمی نے آئے ہوئے تمام مہمانوں، معاونین، منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

 



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *