government panel indian scientists says india will see 1 crore above coronavirus covid 19 active cases ہندوستان میں گزر گیا کورونا کا پیک ، سردیوں میں دوسری لہر خارج از امکان نہیں : سرکاری پینل– Urdu News


Covid 19 in India : سرکار کی جانب سے تشکیل سائنسدانوں کی اس کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگر ہندوستان میں مارچ میں کورونا کے بڑھتے معاملات پر روک لگانے کیلئے لاک ڈاون نہیں لگایا جاتا ملک میں اب تک کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کرجاتی ۔

ہندوستان میں گزر گیا کورونا وائرس کا پیک ، سردیوں میں دوسری لہر خارج از امکان نہیں : سرکاری پینل

ہندوستان میں کورونا وائرس کے نئے معاملات اور تازہ اموات میں گزشتہ کچھ دنوں سے کمی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ اس درمیان حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی سائنسدانوں کی ایک کمیٹی نے اتوار کو ملک میں کورونا 19 کو لے کر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ کمیٹی کا اندازہ ہے کہ ہندوستان میں اب کورونا وائرس کا پیک گزر چکا ہے ۔ حالانکہ اس کے ساتھ ہی کمیٹی نے کہا کہ ملک میں اس وبا کی دوسری لہر کے اندیشہ کو خارج نہیں کیا جاسکتا ہے اور اس وجہ سے فروری 2021 میں ہندوستان میں کورونا کے کیسز 1.06  کروڑ سے زیادہ ہونے کا امکان ہے ۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایسے میں ملک میں کورونا وائرس کے خلاف بچاو والے ضروری اقدامات ایسے ہی جاری رہنے چاہئیں ۔

کمیٹی میں شامل نیتی آیوگ کے رکن پال نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں سے ملک میں بھلے ہی کورونا وائرس کے نئے معاملات اور اس سے ہونے والی اموات میں کمی آرہی ہے ، لیکن ٹھنڈ کے موسم میں کورونا کی دوسری لہر سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

حکومت کی جانب سے تشکیل سائنسدانوں کی اس کمیٹی کا کہنا ہے کہ اگر ہندوستان میں مارچ میں کورونا کے بڑھتے معاملات پر روک لگانے کیلئے لاک ڈاون نہیں کیا جاتا تو ملک میں اب تک کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کرجاتی ، لیکن لاک ڈاون کی وجہ سے فائدہ ملا اور اب تک ملک میں 1.14  اموات ہوئی ہیں ۔ حالانکہ سردیوں میں کورونا وائرس کو لے کر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔

سرکار کی جانب سے تشکیل دی گئی سائنسدانوں کی اس کمیٹی میں وجے راگھون بھی شامل ہیں ۔ اس کمیٹی کے سربراہ آئی آئی ٹی حیدرآباد کے پروفیسر ایم ودیاساگر ہیں ۔ پال کا کہنا ہے کہ ہم ٹھنڈ کے موسم میں ہندوستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے امکان کو خارج نہیں کرسکتے ۔ ایک مرتبہ ٹیکہ آجائے ، اس کے بعد اس کو شہریوں کو دستیاب کرانے کیلئے وسائل موجود ہیں ۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *