6

ایک اور ریاست کانگریس کے ہاتھ سے نکلی، ممبران اسمبلی کا استعفیٰ جمہوریت کی جسم فروشی: نارائن سوامی | Online Urdu News Portal

اکثریت ثابت نہ کرنے پر وزیر اعلیٰ نرائن سوامی مستعفی ، نئی حکومت بنے گی یا گورنر راج نافذ ہوگا، صورتحال غیر واضح
پیسے دے کر ممبران اسمبلی سے استعفے دلوانا بی جے پی کا اقتدار حاصل کرنے کا نیا ہتھکنڈہ : اشوک گہلوت
پڈوچیری: ۲۲؍فروری(بی این ایس)پڈوچیری میں کانگریس۔ ڈی ایم کے حکومت سوموار کو ایوان اسمبلی میں فلور ٹیسٹ میں ناکام ہوگئی، جس کے بعد وزیر اعلیٰ نارائن سوامی نے گورنر تملیسائی سوندرراجن سے ملاقات کرکے اپنا استعفیٰ سونپ دیا ۔ اس طرح ایک اور ریاست کانگریس کے ہاتھوں سے چلی گئی۔ راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے بی جے پی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیسے دے کر ممبران اسمبلی سے استعفیٰ دلوانا بی جے پی کا اقتدار حاصل کرنے کا نیا ہتھکنڈہ ہے۔ وہیں وزیر اعلیٰ نارائن سوامی نے کہا کہ ممبران اسمبلی کا استعفیٰ جمہوریت کی جسم فروشی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب یہ لفٹننٹ گورنر پر منحصر ہے کہ وہ اپوزیشن کو اگلے تین مہینوں تک حکومت بنانے کے لئے مدعو کرے یا مرکز کے زیر انتظام ریاست میں صدارتی حکمرانی کو نافذ کرے۔ کانگریس کی زیرقیادت حکومت کا دور حکومت 8 جون کو ختم ہورہا ہے۔اکثریت حاصل کرنے کے دوران تمام اراکین (دونوں حکمران اور حزب اختلاف) ایوان میں موجود تھے۔کانگریس-ڈی ایم کے کے سات ممبروں کے استعفے کے بعد حزب اختلاف کے 14 کے مقابلے میں اس کی طاقت 12 ہوگئی۔ اس وقت اسمبلی میں 26 ارکین ہیں۔ ایوان میں پارٹی کی پوزیشن: کانگریس -09 (بشمول اسپیکر) ، ڈی ایم کے -02 اور آزاد ایک۔حزب اختلاف: این آر کانگریس 07 ، انا ڈی ایم کے 04 اور بی جے پی کے تین نامزد ممبران۔اس سے قبل وزیر اعلیٰ نارائن سوامی اعتماد ووٹ کی تحریک پیش کرنے کے بعد تقریباًایک گھنٹہ تک ایوان سے خطاب کیا اور پھر تمام ممبروں کے ساتھ واک آؤٹ کر گئے۔اس کے بعد اسمبلی اسپیکر وی شیوکولانتھو نے اعلان کیا کہ مسٹر نارائن سامی کی جانب سے پیش تحریک عدم اعتماد کا ووٹ گرگیا ہے اور ان کی حکومت اکثریت سے محروم ہوگئی ہے۔ اس کے بعد ایوان کو غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔اعتماد کی تحریک پیش کرتے ہوئے نارائن سوامی نے کہا کہ مرکزی حکومت اور سابق لیفٹیننٹ گورنر کرن بیدی کی مبینہ مداخلت کے باوجود ریاست کی کانگریس حکومت نے متعدد اسکیمیں نافذ کیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی حکومت گرانے کے منصوبوں کے باوجود وہ پانچ سال کی مدت پوری کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔وزیر اعلی نے کہا کہ ان کی حکومت پڈوچیری کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے حق میں ہے اور اس کے لئے قانون ساز اسمبلی میں متعدد قراردادیں منظور کی گئیں اور مرکزی حکومت کو بھیجی گئیں۔ انہوں نے ذاتی طور پر وزیر اعظم نریندر مودی اوروزیر داخلہ امت شاہ سمیت متعدد مرکزی رہنماؤں سے بھی ملاقات کی، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیرقیادت حکومت کا رخ پڈوچیری کو ریاست کا درجہ نہ دینے کا تھا۔انہوں نے کہا کہ پڈوچیری کو اس ارادے کے ساتھ ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرکز کی جانب سے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر جمہوری طور پر منتخب حکومت کے اختیارات حاصل کرکے یہاں حکومت نہ کرسکے۔ نارائن سا می نے پڈوچیری کو فنانس کمیشن میں شامل کرنے ، مرکز کو جی ایس ٹی معاوضہ فراہم کرنے میں ناکامی ، ساتویں پے کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے لئے خرچ کی جانے والی رقم کی ادائیگی وغیرہ کے بارے میں بھی بات کی۔انہوں نے ریاست میں اپنی حکومت گرانے کے لئے بی جے پی کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے اروناچل پردیش ، منی پور اور گوا میں جو کیا وہ اب پڈوچیری میں کیا جارہا ہے۔پارٹی کے ممبران اسمبلی کے استعفیٰ پر نارائن سامی نے کہا کہ انہیں تنظیم سے وفادار رہنا چاہئے تھا لیکن مجبوری اور خطرے کی وجہ سے مستعفی ہوگئے۔ انہوں نے اس کو ’جمہوریت کی جسم فروشی‘ قراردیا۔وہیں پڈوچیری کے اس پورے سیاسی عمل سے راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کافی برہم ہیں۔ انھوں نے بی جے پی پر پڈوچیری میں کانگریس حکومت کو غیر اخلاقی طور سے گرانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس (بی جے پی) نے پڈوچیری میں ظاہر کر دیا ہے کہ وہ طاقت کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔‘‘نارائن سامی کے ذریعہ اکثریت ثابت کرنے میں ناکامی کے بعد اشوک گہلوت نے سوشل میڈیا پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’پہلے لیفٹیننٹ گورنر کے توسط سے انتظامیہ چلانے میں دشواری پیدا کی، اور اب حکومت کو پیسہ کی طاقت سے گرا دیا۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ کرناٹک، پھر مدھیہ پردیش اور اب پڈوچیری میں پہلے ایم ایل اے کو لالچ دے کر استعفی دلوانا بی جے پی کا غلط طریقے سے اقتدار پر قبضہ کرنے کا ایک نیا طریقہ ہے۔ گہلوت نے ساتھ ہی کہا کہ ’’راجستھان میں بھی بی جے پی نے غیر اخلاقی طریقوں سے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس کا یہاں کے عوام نے انہیں مناسب جواب دیا۔‘‘



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں