4

مظفر نگر میں کسانوں اور بی جے پی کارکنان میں پرتشدد جھڑپ | Online Urdu News Portal

مرکزی وزیر سنجیو بالیان کی مخالفت کرنے والے نوجوانوں کی پٹائی سے معاملات بگڑے
مظفر نگر: ۲۲؍فروری(بی این ایس) مظفر نگر میں سوموار کو بی جے پی کارکنان اور کسانوں کے درمیان زبردست جھڑپ ہوگئی ، دونوں طرف سے کئی لوگ شدید زخمی ہوگئے ہیں، بتایا جاتا ہے کہ سورم گائوں میں ایک تیرہویں میں مرکزی وزیر ڈاکٹر سنجیو بالیان کی مخالفت کرنے والوں کی پٹائی کی گئی، کچھ نوجوانوں نے بالیان کی مخالفت کررہے نوجوانوں کی پٹائی کی ہے، اس کے بعد دونوں جانب سے تصادم ہوگیا، سنجیو بالیان کے جانے کے بعد سورم گائوں میں پنچایت ہوئی، متاثرہ فریق کی پنچایت میں الزام لگایا گیا کہ حملہ آور سنجیو بالیان کے ساتھ تھے، رالود کے سابق وزیر یوگ راج سنگھ، راج پال بالیان پنچایت میں پہنچے، رالود لیڈران نے واردات کو لے کر ناراضگی ظاہر کی، پولس میں رپورٹ درج کرانے کی تیاری ہورہی ہے، اس تصادم کو لے کر جینت چودھری نے بھی ٹوئٹ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ سورم گائوں میں بی جے پی لیڈران اور کسانوں کے درمیان تصادم ہوا ہے، کئی لوگ زخمی ہوگئ ہیں، کسان کے حق میں بات نہیں ہوتی تو کم سے کم اخلاق تو اچھے رکھیں، کسانوں کی کسانوں کی عزت تو کریں، ان قوانین کے فائدے بتانے جارہے حکومتی نمائندوں کی غنڈہ گردی برداشت کریں گے گائوں والے؟ واضح رہے کہ کسان تحریک حکومت کے گلے کی ہڈی بن گئی ہے، وزیر داخلہ امیت شاہ نے مغربی یوپی کے بی جے پی لیڈران کو یہ ذمہ داری دی ہے کہ کھاپوں کے درمیان جاکر زرعی قوانین کو لے کر شکوک وشبہات کو دور کریں۔ اس سے پہلے اتوار کو مرکزی وزیر سنجیو بالیان کا قافلہ بھینساول گائوں پہنچا تھا، جہاں انہیں مخالفت جھیلنی پڑی تھی، کھاپ چودھریوں نے ان لیڈران سےملنے سے صاف انکار کردیا ، کسانوں نے نعرہ دیا ہے کہ پہلے تینوں قوانین واپس کرائو پھر گائوں آئو۔ واضح رہے کہ مارپیٹ کے واقعے کے بعد ناراض کسانو ںنے شاہ پور تھانے کا گھیرائو کرکے اپنے غم وغصے کا اظہار کیا۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں