یوپی: تبدیلی ٔمذہب قانون کیخلاف ہائی کورٹ میں عرضی، جواب طلب | Online Urdu News Portal

یوپی: تبدیلی ٔمذہب قانون کیخلاف ہائی کورٹ میں عرضی، جواب طلب | Online Urdu News Portal


الٰہ آباد؍پی راج ، 14ستمبر (بی این ایس )
الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی غیرقانونی تبدیلی مذہب قانون 2021 کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضی پر یوگی حکومت کے خلاف نوٹس جاری کیا ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس منیشور ناتھ بھنڈاری کی سربراہی والی بنچ نے عرضی کو دیگر زیر التوائدرخواستوں کے ساتھ منسلک کر دیا ہے ا ور اسے تین ہفتوں بعد کے لئے لسٹ کر دیا۔تبدیلی مذہب قانون کے خلاف پہلے ہی دو مفاد عامہ کی عرضیاں دائر کی جا چکی ہیں۔ نئی عرضی سمیت تمام درخواستوں پر اب آئندہ تاریخ پر سماعت کی توقع ہے۔ یہ عرضی آنند مالویہ نے ایڈوکیٹ شادان فراست اور طلحہ عبدالرحمن کے ذریعے دائر کی تھی۔عرضی گزار آنند مالویہ ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں، جنہوں نے حکومت ہند کے قومی نمونہ سروے آفس میں سینئر شماریاتی افسر کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی دلیل کے مطابق قانون آئین کے سیکولر کردار کیخلاف ہونے کے ساتھ انتخاب کی آزادی اور مذہب کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون بنیادی طور پر موجودہ آئینی حیثیت کی نفی کرنے کی کوشش کرتا ہے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو شادی سے پہلے ریاست سے اجازت لینے پر مجبور کرتا ہے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ عمل فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانے اور سماج کو ذات اور مذہب کی بنیادوں پر تقسیم کی ایک کوشش ہے۔



Source link

Leave a Reply