متحدہ اپوزیشن کا الیکشن ترمیمی بل سمیت دیگربلز کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان


حکومت نے دھونس دھاندلی سے تمام بل بلڈوز کیے، اس ماحول میں قانون سازی نہیں ہوسکتی، شہباز شریف کی میڈیا سے گفتگو— فوٹو:فائل
حکومت نے دھونس دھاندلی سے تمام بل بلڈوز کیے، اس ماحول میں قانون سازی نہیں ہوسکتی، شہباز شریف کی میڈیا سے گفتگو— فوٹو:فائل

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے الیکشن ترمیمی بل سمیت دیگربلوں کو عدالت میں چیلنج کرنےکا اعلان کردیا۔

اپوزیشن لیڈر نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علمائے اسلام کے اسعد محمود سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کی۔

اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھاکہ قانون سازی کو بلڈوز کیا گیا،اس ماحول میں قانون سازی نہیں ہوسکتی، اپوزیشن کے ووٹوں کو کم ظاہر کیا گیا، اپوزیشن نے اعتراض بھی کیا جس کو اہمیت نہیں دی گئی۔

ان کا کہنا تھاکہ تمام روایت کو انہوں نے پاؤں تلے روند دیا، میں نے اوربلاول نے اسپیکر کو بہت سمجھانے کی کوشش کی قواعد پر چلیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھاکہ اسپیکرکوبتایا ہماری تعداد 200 سے اوپر تھی، ہمارےخیال میں حکومتی گنتی میں تین چار ووٹ زیادہ گنے گئے، ہماری بات نہیں مانی تو واک آوٹ کیا۔

ان کا کہنا تھاکہ حکومت نے دھونس دھاندلی سے تمام بل بلڈوز کیے، میں نے اسپیکر سے کہا کہ آپ زیادتی کررہے ہیں، 167 ملکوں میں سے صرف 8 ممالک میں ای وی ایم استعمال ہورہی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھاکہ مشترکہ اجلاس کے اپنے رولز ہوتے ہیں نارمل سیشن کے الگ، میں نے پوری کوشش کی کہ اسپیکر کو رولز بتاؤں، جوائنٹ سیشن سے کسی بل کو منظور کرانے کیلئے 221 ووٹ کا ہونا ضروری ہے، مشترکہ اجلاس میں حکومت کی جیت نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھاکہ کلبھوشن کو این آراو اور الیکشن ترمیمی بل سمیت دیگربلز کو ہرفورم پر چیلنج کریں گے۔

جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اسعد محمود کا کہنا تھاکہ اسپیکر نے جس طرح ایوان کی کارروائی چلائی اس کی مثال نہیں ملتی، اسپیکر نے اپوزیشن رہنماؤں کو بات کرنے کا موقع نہیں دیا، حکومت نے قانون سازی مینج کی ہے اسے ہرفورم پر لے جائیں گے۔

خیال رہے کہ پارلیمنٹ نے انتخابی ایکٹ 2017 میں مزید ترمیم کرنے کے بل ’انتخابات ترمیم دوئم بل 2021ء‘ کی کثرت رائے سے منظوری دے دی جبکہ اپوزیشن کی طرف سے پیش کی گئیں ترامیم مسترد کردی گئیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *