منشیات کیس میں 8 برس قید کی سزا پانے والا ملزم بری


عدالت نے ناقص تفتیش کرنے والے پولیس افسروں کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائیاں کرنے کا بھی حکم دے دیا/ فائل فوٹو
عدالت نے ناقص تفتیش کرنے والے پولیس افسروں کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائیاں کرنے کا بھی حکم دے دیا/ فائل فوٹو

لاہور ہائیکورٹ نے ناقص  پراسیکیوشن کی بنیاد پر منشیات  برآمدگی کے الزام میں سزا پانے  والے شخص کو بری کر دیا۔ 

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ کی سربراہی میں 2  رکنی بینچ نے ندیم اختر کی درخواست پر سماعت کی جس دوران  فاضل بینچ نے ندیم اختر کی 8 برس قید اور 70 ہزار روپے جرمانے کی سزا کالعدم کر کے انہیں بری کر دیا۔

 عدالت نے ناقص  تفتیش کی بنیاد  اور  ملزمان کی بریت پر تمام ڈسٹرکٹ پولیس افسروں کو نوٹس لینے  کے آرڈر جاری کرتے ہوئے  ناقص تفتیش کرنے والے پولیس افسروں کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائیاں کرنے کا بھی حکم دے دیا۔

جسٹس علی ضیا باجوہ نے عدالتی فیصلہ آئی جی پنجاب اور ڈی جی اینٹی نارکوٹکس فورس کو بھجوانے کاحکم بھی دیا، اس دوران لاہور ہائیکورٹ نے منشیات مقدمات کی تفتیش کے لیے رہنما اصول بھی وضع کیے۔

فیصلے میں تحریر کیا گیا ہے کہ ہر پولیس افسر خفیہ اطلاع پر چھاپے یا گشت کے لیے جانے سے پہلے اور واپسی کا وقت رجسٹر نمبر 2 پر تحریر کرے، مال مقدمہ کو باقاعدہ سربمہر کرکے متعلقہ اسٹور میں جمع کرایا جائے جب کہ رجسٹر نمبر 19 میں مال مقدمہ کا اندراج کیا جائے۔

 فیصلے کے مطابق،  منشیات برآمد کرنے، نمونے بنانے ، نمونے فرانزک بھجوانے اور مال مقدمہ محفوظ رکھنے والے پولیس افسروں کے بیانات قلم بند کیے جائیں، مقدمات میں شواہد اکٹھے کرنے اور نمونے حاصل کر کے فرانزک بھجوانے کے مکمل عمل میں شامل افسروں کو گواہ بھی بنایا جائے۔ 

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ  منشیات کے مقدمات میں نمونے فرانزک بھجوانے کے لیے رجسٹر نمبر 21 سے روڈ سیفٹی سرٹیفکیٹ کو بھی مقدمہ کا حصہ بنایا جائے اور وقوعہ کی اطلاع دینے والے پولیس افسر کو بھی مقدمہ میں گواہ بنایا جائے تاکہ منشیات کے مقدمہ میں شک کو ختم کیا جا سکے۔ 



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *