چاند گرہن اور اس سے جڑے دلچسپ تصورات، کیا آپ بھی ان پر یقین کرتے ہیں؟


محکمہ موسمیات کے مطابق رواں سال کا دوسرا چاند گرہن آج ہوگا جو پاکستان کے علاوہ دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا جاسکے گا—فوٹو: فائل
محکمہ موسمیات کے مطابق رواں سال کا دوسرا چاند گرہن آج ہوگا جو پاکستان کے علاوہ دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا جاسکے گا—فوٹو: فائل 

محکمہ موسمیات کے مطابق رواں سال کا دوسرا چاند گرہن آج ہوگا جو پاکستان کے علاوہ دنیا کے مختلف حصوں میں دیکھا جاسکے گا۔

چاند گرہن اور اس سے جڑے  کئی دلچسپ تصوراتی باتیں ہمارے معاشرے میں سننے کو ملتی  ہیں، کیا آپ بھی ان پر یقین کرتے ہیں؟

چاند گرہن سے متعلق چند تصوراتی خیال  

چاند گرہن سے متعلق سب سے مشہور تصوراتی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ گرہن کو دیکھنے سے آپ کی بینائی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ عام طور پر یہ خیال بھی کیا جاتا ہے کہ چاند گرہن کے دوران کسی کو کھانا یا پینا نہیں چاہیے، زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے چاند گرہن کے دوران کھانا خراب ہوجاتا ہے اور بدہضمی کا سبب بن سکتا ہے۔

 بہت سے لوگ اپنے کھانے کو تلسی کے پتوں سے ڈھانپتے ہیں تاکہ اسے خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔

اگرچہ چاند گرہن کو برا مانا جاتا ہے لیکن لوگ عام طور پر یہ بھی مانتے ہیں کہ یہ آپ کے گناہوں کو دھونے کا بہترین وقت  ہوتاہے۔ 

 خیال کیا جاتا ہے کہ گرہن کے دوران آپ کو گناہوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے غسل کرنا چاہیے تاکہ آپ پاک ہوسکیں۔

اس کے علاوہ بہت سے  علاقوں میں حاملہ خواتین کو عام طور پر چاند گرہن کے دوران گھر کے اندر رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ گرہن پیدا ہونے والے بچے کیلئے  برا ثابت ہوسکتا ہے۔

بہت سے لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ گرہن کے دوران حاملہ خواتین کو چاقو اور تیز دھار چیزیں پکڑنی نہیں چاہیے کیونکہ ان چیزوں کا بچے پر پیدائشی نشان پڑ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ جنوبی امریکا کے  مقامی لوگ مانتے ہیں کہ سورج اور چاند بھائی بھائی ہیں  اور اگر گرہن لگ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو گرا دیا۔

تبت میں لوگ سمجھتے ہیں کہ چاند گرہن کے دوران اچھے اور برے اعمال کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ چاند گرہن اس وقت دیکھنے کو ملتا ہے جب زمین اپنے مدار میں چکر کاٹتے ہوئے سورج اور چاند کے درمیان آجاتی ہے اور سورج کی روشنی چاند تک نہیں پہنچ پاتی، اس دوران چاند سیاہ ہونا شروع ہوجاتا ہے جسے گرہن لگنا کہتے ہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *