گلبرگ میں طالب علموں کی ویکسی نیشن نہ کرنے پر اسکول سیل


طلبا کی ویکسی نیشن کے لیے والدین کی رضامندی بہت ضروری ہے، اس کے بغیر ہم ویکسین نہیں لگا سکتے، ڈپٹی ڈائریکٹر اسکول ۔(فوٹو: فائل)

طلبا کی ویکسی نیشن کے لیے والدین کی رضامندی بہت ضروری ہے، اس کے بغیر ہم ویکسین نہیں لگا سکتے، ڈپٹی ڈائریکٹر اسکول ۔(فوٹو: فائل)

 کراچی: اسکول انتظامیہ کی جانب سے طالب علموں کو ویکسین نہ لگانے پر اسسٹنٹ کمشنر گلبرگ نے نجی اسکول کو سیل کردیا، ڈپٹی ڈائریکٹر اسکول نے اسکول کو ڈی سیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ والدین کی رضامندی کے بغیر ہم ویکسین نہیں لگا سکتے، اسکول کو ڈی سیل کیا جائے اور حراست میں لیے گئے اساتذہ اور پرنسپل کو رہا کیا جائے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر گلبرگ نے کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 16 میں قائم ارقم پبلک اسکول کو طالب علموں کی ویکسی نیشن نہ کرنے پر سیل کردیا، اس حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر ارقم پبلک اسکول اسکول محمد یوسف کا کہنا تھا کہ اسسٹنٹ کمشنر گلبرگ اپنی ٹیم کے ہمراہ اسکول کے طالب علموں کو خسرہ و روبیلا مہم کے حفاظتی ٹیکے لگوانا چاہتے تھے، ہم بھی انتظامیہ سے تعاون کررہے ہیں لیکن طالب علموں کو ویکسین لگانے کے لیے والدین کی رضامندی بہت ضروری ہے، اور ان کی رضامندی کے بغیر ہم ویکسین نہیں لگا سکتے، نہ ہی ہم کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر کے ہمراہ پولیس نے اساتذہ کو دھکے دئیے اور ہاتھا پائی بھی کی، شہر میں کیا صرف ویکسین ہی مسئلہ رہ گیا ہے؟ ہم مہم کے مخالف نہیں ہیں، اب یہ تمام اسکولوں کا مسئلہ بن گیا ہے، اسکول میں والدین کی رضامندی سے 40 فیصد بچوں کو ویکسین لگائی جاچکی ہے، والدین کی رضامندی کے بغیر ہم ویکسین نہیں لگا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم والدین کو سمجھا رہے ہیں کہ ویکسین لگوائیں لیکن لوگ اعتماد نہیں کرتے، ایک طرف والدین ہیں دوسری طرف انتظامیہ، ہم کہاں جائیں ؟ ایک ویکسی نیشن مہم ختم نہیں ہوتی دوسری ویکسی نیشن مہم آجاتی ہے، جس کہ وجہ سے اسکول انتظامیہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اسکول میں نرسری سے میٹرک تک 450 سے زائد  بچے زیر تعلیم ہیں، ہماری انتظامیہ سے گزارش ہے  کہ تعلیمی ادارے بند نہ کیے جائیں، اسکول کو فوری طورڈی سیل کیا جائے، جوہر آباد تھانے میں بند اسکول پرنسپل اور دو اساتذہ کو رہا کیا جائے، انتظامیہ کا یہ رویہ ناقابل برداشت ہے۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *