ایم کیو ایم پاکستان نے سابقہ مرکز89 کھولنے کی تیاریاں شروع کردی، ذرائع


89 مرکز کی بحالی کا حتمی فیصلہ اہم سیکورٹی اداروں کی رائے کی روشنی میں کیاجائے گا، وفاقی ذرائع۔ (فوٹو: فائل)

89 مرکز کی بحالی کا حتمی فیصلہ اہم سیکورٹی اداروں کی رائے کی روشنی میں کیاجائے گا، وفاقی ذرائع۔ (فوٹو: فائل)

 کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے الکرم اسکوائر، لیاقت آباد میں اپنا سابقہ مرکز 89 دوبارہ کھولنے کے لیے ابتدائی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ وفاق سے مکمل اجازت ملنے کے بعد اس مقام پر عوامی سیکریٹیریٹ قائم کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایم کیوایم پاکستان کے اہم ترین مرکزی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے الکرم اسکوائر، لیاقت آباد میں اپنا سابقہ مرکز 89 دوبارہ کھولنے کے لیے ابتدائی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ 89 مرکز 1987 میں قائم ہوا تھا، یہ دفتر 1992 میں کراچی آپریشن کے بعد بند ہوگیا تھا اور تاحال بند ہے۔ وفاق سے مکمل اجازت ملنے کے بعد اس مقام پر عوامی سیکریٹیریٹ قائم کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ الکرم اسکوائر، لیاقت آباد میں قائم سابقہ مرکز 89 پارٹی کے لیے اہم ترین دفتر ہے، یہ دفتر ماضی میں عوامی سیکریٹریٹ ہوا کرتا تھا۔جہاں اس وقت کے ارکان اسمبلی عوامی مسائل سنتے تھے۔ تاہم کچھ عرصہ قبل یہ دفتر بند ہوگیا تھا۔ یہ دفتر 89 کہلاتا تھا۔ اس دفتر کو بحال کرنے کے لیے ایم کیوایم پاکستان نے وفاقی حکومت سے اجازت طلب کی تھی۔

اس رہنما کا دعوی ہے کہ 89 دفتر کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت نے ابتدائی عندیہ دیا ہے، اس مثبت پیش رفت کے بعد ایم کیوایم پاکستان نے مشاورت کے بعد 89 مرکز کو عوامی سیکرٹیریٹ کے طور پر کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں پارٹی کے ارکان اسمبلی عوام سے رابطے کے لیے بیٹھیں گے۔

اس رہنما کا کہنا تھا کہ وفاق کی مکمل اجازت کے بعد اس دفتر کو فعال کردیا جائے گا۔ وفاق کے ابتدائی گرین سگنل کے بعد ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور دیگر رہنماؤں نے جمعرات کو الکرم اسکوائر کے اس دفتر کا باہر سے دورہ کیا، دفتر کی املاک کا جائزہ لیا۔ مذکورہ رہنما کا کہنا ہے کہ اس  دفتر کو مکمل کھولنے کی اجازت دینے کے بعد یہاں مرمتی کام شروع ہوجائے گا۔

دوسری جانب وفاق کے اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کے اس دفتر کی بحالی کے لیے باضابطہ اجازت دینے یا نہ دینے کا حتمی فیصلہ اہم سیکورٹی اداروں کی رائے کی روشنی میں کیاجائے گا، اس حوالے سے کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *