خوراک سے چینی کم کر کے کن بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے؟



کیک، بسکٹ، کولڈ ڈرنک اور دیگر مشروبات بہت سے لوگوں کی روز مرہ زندگی کا حصہ ہوتے ہیں البتہ اکثر افراد کو اس کا علم نہیں ہوتا کہ ان سب اشیا میں چینی کی کتنی مقدار ہوتی ہے۔

ایک عام خیال یہ ہے چینی کا زیادہ استعمال انسان کو موٹاپے کی طرف لے جانے کے ساتھ ساتھ اسے دیگر بیماریوں میں بھی مبتلا کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر خوراک سے چینی کے استعمال کو کم کر دیا جائے تو اس سے متعدد بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلے آپ کو یہ بات جاننا ہو گی کہ چینی ہوتی کیا ہے اور ایک بالغ انسان کو دن میں کتنی مقدار میں چینی کا استعمال کرنا چاہیے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق چینی دراصل کاربوہائیڈریٹس کی ایک عام شکل ہے جس میں مونو سیکارائیڈز ہوتے ہیں جیسے کہ فرکٹوز (وہ مٹھاس جو پھل میں پائی جاتی ہے) اور گلیکٹوز جو دودھ سے بنی اشیا میں پائی جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ چینی دیگر میٹھی چیزوں جیسے سوڈا، سیرپ، ٹافیاں اور دیگر مشروبات میں استعمال کی جاتی ہے جسے ایڈڈ شوگر بھی کہا جاتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کہ مطابق ان اشیا میں چوں کہ استعمال ہونے والی چینی ریفائنڈ اور مختلف مراحل سے گزر کر بنائی جاتی ہے تو اس میں وٹامن، نمکیات اور فائبر نہیں پایا جاتا۔

ایڈڈ شوگر کا استعمال موٹاپے کا سبب بن سکتا ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن (اے ایچ اے) کی تجویز کے مطابق خواتین کو ایک دن میں 24 گرام جب کہ مردوں کو 36 گرام ایڈڈ شوگر استعمال کرنی چاہیے۔

برطانیہ کی ہارورڈ ہیلتھ پبلشنگ کے مطابق گزشتہ 30 برس سے زائد کی مختلف تحقیقوں سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ایڈڈ شوگر والی اشیا کا زائد استعمال موٹاپے، امراضِ قلب اور ذیابیطس کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔

خوراک میں چینی کم کرنے کا فائدہ

رواں برس 26 اکتوبر کو امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے جرنل ‘سرکولیشن’ میں شائع ہونے والے مطالعے میں ایک ماڈل کا جائزہ لیا گیا جس میں خوراک میں چینی کی مقدار کو کم کرنے سے ذیابیطس، امراضِ قلب، موٹاپے جیسے امراض میں کمی جب کہ صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں تبدیلیاں شامل ہیں۔

سن 2018 میں امریکہ کے نیشنل سالٹ اینڈ ریڈکشن انیشی ایٹو (این ایس ایس آر آئی) نے چینی میں کمی کے اہداف تجویز کیے تھے۔ ان اہداف میں کھانے پینے کی اشیا اور مشروبات بنانے والی کمپنیوں کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنی ان اہداف میں پر عمل درآمد کا عہد کریں۔

این ایس ایس آر آئی کے مطابق 2026 کے آخر تک خوراک کی 15 کیٹیگریز میں 20 فی صد جب کہ میٹھے مشروبات میں 40 فی صد کمی کا ہدف طے کیا گیا ہے۔

ان اہداف کا تعین سال 2011 سے 2016 تک نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزامینیشن سروے، متعدد تحقیقی مطالعے سے سامنے آنے والی چینی سے متعلق بیماریوں اور صحت سے متعلق اخراجات سے آنے والے اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے کیا گیا۔

مذکورہ معاطلے سے یہ نتائج سامنے آئے ہیں کہ 35 سے 80 سال تک کے امریکیوں میں حکومت کی حمایت یافتہ چینی میں کمی کی پالیسی سے امراضِ قلب کے 25 لاکھ، قلبی اموات کے پانچ لاکھ اور ذیابیطس کے کیسز میں ساڑھے سات لاکھ تک کی کمی آسکتی ہے۔

اعداد و شمار سے یہ بھی پتا چلاتا ہے کہ چینی کی یہ کمی زندگی بھر میں سماجی نقطہٴ نظر سے 160 اعشاریہ 88 ارب ڈالرز کی بچت کرا سکتی ہے۔

چینی کم کرنے کی تجاویز؟

اے ایچ اے کی تجویز کے مطابق چینی کی جگہ گُڑ اور شہد کا استعمال ایک بہتر آپشن ہے۔ روز مرہ کی خوراک میں جن چیزوں میں چینی کا استعمال کیا جاتا ہے اس کی جگہ گڑ اور شہد شامل کرکے ڈائٹ میں چینی کی مقدار کم کی جاسکتی ہے۔

اس تجویز کے مطابق چینی کم کرنے کے لیے اپنی خوراک سے سوڈا کم اور پانی کا استعمال زیادہ کر دیں۔ اگر اس کے باوجود بھی آپ کو میٹھے مشروبات یا ڈرنکس پینے کا دل کرے تو اس کے لیے ڈائٹ ڈرنکس کا استعمال کرنا بہتر ہے۔

اسی طرح تازے پھل کا استعمال کریں، کین میں پیک پھل کے استعمال سے گریز کریں اور اگر اس کے باوجود آپ کین والے پھل کا استعمال کر رہے ہیں تو اس میں موجود سیرپ کو نکال کر انہیں اچھی طرح دھو کر استعمال کریں۔

مزید برآں خریداری کرنے سے قبل پیکیجنگ کی پشت پر موجود چارٹ کو ضرور دیکھیے کہ اس چیز میں چینی کس مقدار میں موجود ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *