کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے فائزر نے دوا تیار کر لی، 90 فی صد مؤثر ہونے کا دعویٰ


دوا ساز کمپنی فائزر نے جمعے بتایا ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اس کی تجرباتی اینٹی وائرل دوا کے استعمال سے ان بالغ افراد کے اسپتال میں داخل ہونے کی شرح اور اموات میں 90 فی صد کے لگ بھگ کمی ہوئی ہے، جنہیں اس وائرس سے زیادہ خطرہ تھا۔

اس وقت کوویڈ-19 میں مبتلا زیادہ تر مریضوں کا علاج انجکشن کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ایک اور دوا ساز کمپنی میرک نے سب سے پہلے اس وبا کے علاج کے لیے گولیاں تیار کی ہیں، جس کے نتائج بہتر رہے ہیں۔ امریکہ کا فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کا ادارہ اس دوا کی منظوری سے پہلے اس کا جائزہ لے رہا ہے جب کہ جمعرات کے روز برطانیہ نے اسے استعمال کے لیے منظور کر لیا ہے۔

فائزر نے کہا ہے کہ وہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو اپنی دوا کی جلد از جلد منظوری کے لیے کہے گا۔ تاہم، اس پر فیصلہ ہونے میں کچھ ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔

پچھلے سال وبائی مرض کے آغاز کے بعد سے دنیا بھر میں طبی ماہرین اس کے علاج کے لیے ایک ایسی دوا کی تلاش میں تھے جسے گھر پر استعمال کیا جا سکے، تاکہ مریض کو اسپتال لے جانے کی ضرورت نہ پڑے۔

کرونا وائرس کے علاج کے لیے میرک کمپنی کی تیار کردہ دوا ایف ڈی اے کے زیر غور ہے۔

کرونا وائرس کے علاج کے لیے میرک کمپنی کی تیار کردہ دوا ایف ڈی اے کے زیر غور ہے۔

پٹس برگ یونیورسٹی میں متعدی امراض کے سربراہ ڈاکٹر جان میلرز نے، جو فائزر کے مطالعے میں شامل نہیں تھے، کہا ہے کہ کرونا وائرس کے علاج کے لیے گولیوں کی شکل میں دوا کی تیاری ایک بہت اہم پیش رفت ہے۔

جمعہ کو، فائزر نے 775 بالغوں پر اپنی دوا کے استعمال سے متعلق ابتدائی نتائج جاری کیے ہیں۔ ان افراد کو بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے فوراً بعد ایک اور اینٹی وائرل کے ساتھ یہ دوا دی گئی تھی۔ ایک مہینے کے بعد مرتب کیے جانے والے نتائج کے مطابق اس کے استعمال سے مرض کی علامتوں اور اسپتال جانے کی شرح میں 89 فی صد کمی ہوئی اور اس دوران کوئی مریض ہلاک نہیں ہوا۔

فائزر کے چیف سائنٹیفک آفیسر ڈاکٹر میکیل ڈولس ٹن نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ ایک غیر معمولی دوا ہے۔ اس کی افادیت تقریباً 90 فی صد ہے اور یہ موت سے 100 فی صد تحفظ فراہم کرتی ہے۔

امریکہ میں صحت کے اعلیٰ حکام اس بات پر زور دیتے رہتے ہیں کہ ویکسین اس وبا سے حفاظت کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ لیکن لاکھوں بالغ امریکیوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لی اور وہ اس کی مسلسل مخالفت کر رہے ہیں، جب کہ دنیا بھر میں ایسے افراد کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ کرونا وائرس کی دوا کی دریافت سے وائرس کا پھیلاؤ روکنے اور اس میں مبتلا افراد کے آسان علاج میں مدد ملے گی۔

فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے میرک کمپنی کی تیار کردہ کرونا وائرس کی دوا کا جائزہ لینے کے لیے اس مہینے کے آخر میں ایک اجلاس بلایا ہے۔ میرک نے ستمبر میں بتایا تھا کہ اس کی دوا کے استعمال سے مریضوں کے اسپتال میں داخلے اور اموات میں 50 فی صد تک کمی ہوئی ہے۔ تاہم کئی ماہرین نے ان دعوؤں پر سوال اٹھائے ہیں۔

ڈاکٹر میلورس کا کہنا ہے کہ فائزر اور میرک کی دواؤں کی افادیت میں نمایاں فرق ہے۔ فائزر نے 90 فی صد جب کہ میرک نے 50 فی صد افادیت کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

یہ دوا پہلے پہل 2003 میں اس وقت دریافت ہوئی تھی جب ایشیا میں سارس وائرس پھیلا ہوا تھا۔ پچھلے سال کمپنی کے محققین نے اس دوا کو کرونا وائرس پر آزمانے کا فیصلہ کیا کیونکہ دونوں وباؤں کے وائرسز میں کافی مماثلت تھی۔

اس سے قبل امریکہ نے کوویڈ-19 کے علاج کے لیے ایک اور اینٹی وائرل دوا ریمڈیسیوائر کی منظوری دی ہے جو وائرس کے خلاف لڑائی میں انسانی جسم کے مدافعتی نظام کی مدد کرتی ہے۔ لیکن وہ دوا صرف شریان میں لگائے جانے والے انجکشن کی صورت میں اسپتال یا کلینک میں ہی دی جاتی ہے اور اس کی رسد بھی محدود ہے۔

کرونا وائرس کے علاج کے لیے دوا بنانے کے اعلان کے بعد فائزر کے شیئرز میں جمعے کے روز 8 فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *