انتہا پسندوں کی دھمکیاں؛ کیا منور فاروقی کامیڈی چھوڑ رہے ہیں؟



بھارتی کامیڈین منور فاروقی نے ہندو انتہا پسندوں کی مبینہ دھمکیوں کی وجہ سے بار بار شوز منسوخ ہونے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اتوار کو ان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کو اسٹینڈ اپ کامیڈی سے کنارہ کشی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

منور فاروقی نے اتوار کو بنگلور میں اپنا شو منسوخ ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا کہ “نفرت جیت گئی اور فن کار ہار گیا۔”

بھارتی نیوز چینل ‘انڈیا ٹی وی’ کے مطابق ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے احتجاج کے پیشِ نظر منور فاروقی کا اتوار کو بنگلور میں ہونے والا شو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

انتہا پسندوں کا الزام ہے کہ کامیڈین منور فاروقی اپنے شوز کے ذریعے ہندوؤں کے جذبات مجروح کر رہے ہیں۔

‘انڈیا ٹی وی’ کے مطابق بنگلور پولیس نے امن و امان کی صورتِ حال سے متعلق مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے منتظمین سے شو منسوخ کرنے کا کہا تھا۔

بنگلور کے اشوک نگر پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر نے ہفتے کو منتظمین کو لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ منور فاروقی ایک متنازع شخصیت کے حامل ہیں اس لیے منتظمین سے کہا کہ وہ شو کو منسوخ کر دیں۔

خط میں مزید کہا گیا تھا کہ کئی ریاستوں میں کامیڈین منور فاروقی کے شوز پر پابندی ہے، ان کے خلاف مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں مقدمہ بھی درج ہے۔ بہت سی تنظیمیں ان کے شو کی مخالف ہیں۔ اس لیے شو کے انعقاد سے امن و امان کی خرابی کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ رواں برس جنوری میں اندور پولیس نے منور فاروقی کو مبینہ طور پر ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

اپنے حالیہ شو کی منسوخی کے بعد منور فاروقی نے اتوار کو انسٹاگرام پر بیان جاری کیا۔

کامیڈین نے کہا کہ “آج بنگلور میں ہونے والا شو توڑ پھوڑ کی دھمکیوں کے بعد منسوخ ہو گیا جس کے 600 سے زائد ٹکٹس فروخت ہو چکے تھے۔”

منور کے مطابق ان کے پاس شوز کے لیے سنسر سرٹیفکٹ بھی ہیں لیکن وینیو اور شرکا کو ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے گزشتہ دو ماہ کے دوران انہوں نے 12 شوز منسوخ کیے ہیں۔

کامیڈین نے ایک نظم کا سہارا لیا اور کہا کہ ” اُن کی نفرت کا بہانہ بن گیا ہوں، ہنسا کر کتنوں کا سہارا بن گیا ہوں، ٹوٹنے پہ آپ کی خواہش ہو گی پوری، صحیح کہتے ہیں میں ستارا بن گیا ہوں۔”

منور فاروقی نے کہا کہ ان کے شوز کو بھارت بھر سے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں سے پیار ملا اور اسی پیار بانٹنے کی پاداش میں انہیں جیل میں بھی ڈالا گیا۔

انسٹاگرام پر جاری بیان میں منور فاروقی کا کہنا تھا “میرے خیال میں اب سب کچھ ختم ہو چکا ہے، میرا نام منور فاروقی ہے اور میں اب یہ ختم کر رہا ہوں، آپ تمام لوگ بے حد اچھے سامعین تھے، الودع۔”

منور کے اس پیغام کامیڈی چھوڑنے کے عندیے کو طور پر لیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ منور دھمکیوں کے بعد کامیڈی سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں یا نہیں۔

‘ہم بطور معاشرہ ایک مرتبہ پھر ناکام ہو گئے’

منور فاروقی کے بیان پر سوشل میڈیا پر ان کے حامی بھی سامنے آئے ہیں۔

ادکار محمد ذیشان ایوب نے کہا کہ “ہم بطور معاشرہ ایک مرتبہ پھر ناکام ہو گئے ہیں۔”

انہوں نے کامیڈین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کا دامن نہ چھوڑیں۔ ان کے مداح ایک مرتبہ پھر انہیں اسٹیج پر دیکھنے کے لیے پُر امید ہیں۔

بھارتی اداکارہ سوارا بھاسکر بھی کامیڈین منور فاروقی کے حق میں بول پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ “یہ بہت دل خراش اور شرمناک ہے کہ ہم نے بطور معاشرہ کیسے ہراساں کرنے کو عام کر دیا ہے۔ مجھے بے حد افسوس ہے۔”

یاد رہے کہ اس قبل بھارتی کامیڈین ویر داس کو بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں امریکہ میں ایک شو کے دوران ‘میں دو انڈیا سے ہوں’ نظم پیش کی تھی۔

ان کی اس نظم میں بھارت کے دو رخ بیان کیے گئے تھے جس پر بعض حلقوں کی جانب سے ملک کا نام بدنام کرنے پر ان کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا جا رہا تھا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *