‘پپو سائیں نے ڈھول بجانے کے فن کو دنیا میں ایک منفرد مقام دیا’


پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ڈھول ماسٹر ذوالفقار علی المعروف ‘پپو سائیں’ انتقال کر گئے۔ انہیں ڈھول بجانے والوں میں استاد مانا جاتا تھا اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے انہوں نے اس فن کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میں ایک منفرد مقام دیا۔

پپو سائیں گزشتہ چند ہفتوں سے لاہور کے پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) میں زیرِ علاج تھے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے 80 فی صد جگر نے کام کرنا چھوڑ گیا تھا جس کے باعث ہفتے کے روز ان کا انتقال ہو گیا۔

پپو سائیں کی نمازِ جنازہ لاہور کے علاقے اچھرہ میں بزرگ شاہ جمال کے دربار کے احاطے میں ادا کی گئی جہاں آخری رسومات کی ادائیگی کے دوران ڈھول بھی بجا کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ ان کی تدفین فیصل آباد کے علاقے چک جھمرہ میں کی گئی ہے۔

پپو سائیں نے کم عمری میں ہی ڈھول سیکھنا اور بجانا شروع کیا تھا۔ انہوں نے یہ فن اپنے والد سے سیکھا تھا۔ پپو سائیں ہر جمعرات کی شب شاہ جمال کے مزار پر ڈھول بجایا کرتے تھے جہاں بڑی تعداد میں لوگ انہیں سننے آتے تھے۔ وہ اپنی صوفیانہ دھنوں کے باعث مشہور تھے۔

پپو سائیں کو ڈھول بجانے میں مہارت تھی۔ وہ صوفی طرز کی ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے تھے، یہ رقص وہ خود ڈھول بجاتے ہوئے کرتے تھے اور انہیں دیکھتے ہوئے دیگر افراد بھی ساتھ رقص میں شامل ہو جاتے تھے۔

پپو سائیں کو ان کی خدمات پر حکومتِ پاکستان نے تمغہ امتیاز سے نوازا تھا۔ اس کے علاوہ پپو سائیں مختلف ایوارڈز بھی اپنے نام کرچکے تھے۔

‘پپو سائیں ڈھول بجانے والوں کے استاد تھے’

پپو سائیں کے بڑے بیٹے قلندر بخش کہتے ہیں کہ وہ ایک انتہائی شفیق اور محبت کرنے والے والد تھے جو اپنی اولاد اور شاگردوں کے ساتھ محبت اور خلوص سے پیش آتے تھے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے قلندر بخش نے کہا کہ وہ باپ ہونے کے ساتھ ایک استاد بھی تھے اور انہوں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ ان کے بقول پپو سائیں نے ڈھول بجانے کا فن ان کے دادا لڈن سائیں سے سیکھا تھا، اسی طرح انہوں نے یہ فن اپنے والد پپو سائیں سے سیکھا ہے۔

قلندر بخش کے بقول اُن کے والد نے بطور استاد اُنہیں کلاسیکل، صوفی اور دیگر دھنیں بجانا سکھائیں۔ وہ ایک ایسے لیجنڈ استاد تھے جو نہ صرف ان کے بلکہ پورے پاکستان میں ڈھول بجانے والوں کے استاد تھے۔

ان کے بقول پپو سائیں کا ڈھول سیکھانے کا انداز سب سے مختلف تھا۔ وہ ہر دھن پہلے خود بجاتے، پھر بتاتے اور پھر سکھاتے تھے۔

‘پپو سائیں ایک بڑے فنکار تھے’

علامہ اقبال کے نواسے اور سماجی شخصیت یوسف صلاح الدین سمجھتے ہیں کہ پپو سائیں واقعی ایک بڑے فن کار تھے اور انہوں نے ڈھول بجانے کے فن کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میں ایک منفرد مقام دیا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پپو سائیں کا ڈھول بجانے کا فن دنیا بھر میں مقبول تھا۔ خاص طور پر حضرت شاہ جمال کے دربار پر انہیں نوجوان اور غیرملکی سننے آتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ جب کبھی ان کے بیرونِ ملک سے مہمان آتے تھے تو وہ انہیں ضرور پپو سائیں کو سنوانے کے لیے شاہ جمال کے دربار پر بھجواتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک پروگرام میں پپو سائیں کی شہباز قلندر نامی دھن انہوں نے صنم ماروی کے ساتھ بجائی تھی جو خاصی مقبول ہوئی تھی۔

‘پپو سائیں جیسا فن کسی اور کے پاس نہیں تھا’

پپو سائیں کی ایک شاگرد حوریہ عصمت ہیں جو سمجھتی ہیں کہ ڈھول کے دو ستون تھے۔ ایک گونگا سائیں اور دوسرا پپو سائیں جن کے بغیر ڈھول ادھورا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت والے ڈھول کے معاملے میں پپو سائیں کو اپنا استاد مانتے تھے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئےحوریہ عصمت نے کہا کہ ڈھول بجانے کا فن اور علم جو پپو سائیں کے پاس تھا وہ کسی اور کے پاس نہیں تھا۔ وہ ڈھول کی بنیاد اور تیکنیک کو سمجھتے تھے۔ ان کے مطابق پپو سائیں کے بہت سے شاگرد ہیں لیکن کسی نے بھی ڈھول کا پورا علم اپنے اندر پورا نہیں اتارا۔

یوسف صلاح الدین کہتے ہیں کہ پپو سائیں کے چاہنے والوں میں ایک بڑی تعداد غیر ملکیوں کی بھی ہے۔ ان کے مطابق پپو سائیں کی دھنیں اتنی خوبصورت ہیں کہ وہ ہر کسی کو سمجھ آ جاتی ہیں۔

یوسف صلاح الدین سمجھتے ہیں کہ پپو سائیں کی ڈھول کی دھنوں میں ایک خاص جوش پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ایک منفرد انداز تھا، ان کے کام کی ایک الگ پہچان تھی جسے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔

حوریہ عصمت کے بقول جب انہوں نے ڈھول خریدا تو انہیں ڈھول کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا۔ انٹرنیٹ پر ڈھونڈنے سے پپو سائیں کی ویڈیوز کے سوا ایسا مواد بہت کم تھا جس میں ڈھول کے بارے میں کچھ بتایا گیا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پپو سائیں کو دیکھ دیکھ کر ڈھول بجانا شروع کیا اور بعد میں ان کی باقاعدہ شاگردی اختیار کی۔ پپو سائیں ایک صوفی ڈھول کے استاد تھے ان کی دھنوں میں ایک منفرد صوفیانہ انداز تھا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published.