دنیا کا پہلا ’زندہ روبوٹ‘ جو اپنی نسل بڑھا سکتا ہے!


چار امریکی جامعات نے مینڈک کے اسٹیم سیل سے جاندار روبوٹ بنایا ہے جو اپنی نسل بڑھا سکتا ہے۔ فوٹو: سی این این

چار امریکی جامعات نے مینڈک کے اسٹیم سیل سے جاندار روبوٹ بنایا ہے جو اپنی نسل بڑھا سکتا ہے۔ فوٹو: سی این این

ہارورڈ: یہ نہ ہی پودا ہے، نہ جانور ہے بلکہ یہ ایک زندہ روبوٹ ہے جو اب اپنی نسل بڑھا سکتا ہے۔ اسے زینوبوٹ کا نام دیا گیا ہے۔

پنجے والے افریقی مینڈک (زینوپس لیوس) کے خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) کو بطورخام مال استعمال کیا گیا ہے۔ زینوبوٹ کی چوڑائی ایک ملی میٹر سے تھوڑی کم ہے۔ اگرچہ 2020 میں اسے بنایا گیا تھا جو حرکت کرسکتا تھا، اپنے جیسے روبوٹ سے ملکر کام کرسکتا تھا لیکن اب اس میں ایک بالکل انوکھی خاصیت پیدا ہوگئی ہے۔

ورمونٹ، ٹفٹس اور ہارورڈ یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر اسی زینوبوٹ کے متعلق کہا ہے کہ انہوں نے اس روبوٹ میں مزید تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اب یہ اپنی نسل بڑھا سکتا ہے لیکن اس کا انداز بالکل مختلف ہے جو کسی پودے اور جانور جیسی نہیں۔

ٹفٹس یونیورسٹی کے مائیکل لیون اس کام کے اہم رکن ہے جو کہتے ہیں کہ ہم نے حیاتیاتی پیدائش (ری پروڈکشن) کا بالکل نیا طریقہ دیکھا ہے جو بہت حیرت انگیز ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اگر کچھ خلیات کو باقی ماندہ بیضے (ایمبریو) سے الگ کرکے موزوں ماحول میں رکھا جائے تو نہ صرف وہ نئے انداز سے حرکت کرتے ہیں بلکہ نئے انداز سے نسل خیزی بھی کرسکتے ہیں۔

اس میں حرف C کی شکل کا باپ زینو بوٹ ادھر ادھر بکھرے اسٹیم سیلز جمع کرتا ہے، ڈھیر لگاتا ہے اور وہ اگے چل کر بچے بن جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ خلیاتِ ساق کی اقسام کے خلیات میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ زینوبوٹ بنانے کے لیے ماہرین نے انہیں مینڈکوں کے انڈوں سے الگ کیا اور انکیوبیٹ کرایا لیکن اس میں کوئی خاص جین شامل نہ تھا۔

ایک اور ماہر جوش بوگارڈ کہتے ہیں کہ لوگ دھات اور الیکٹرونک کے مجموعے کو ہی روبوٹ سمجھے ہیں، تاہم اس معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ ہم اپنے حیاتیاتی روبوٹ کو ایک جاندار بھی کہہ سکتے ہیں جسے مینڈک کے خلیات سے بنایا گیا ہے۔

ایک زینوبوٹ گول دانے جیسا ہے جو 3000 خلیات سے بنایا گیا ہے۔ یہ اپنی نقل بناسکتا ہے لیکن بہت خاص حالات میں ایسا کرتا ہے۔ لیکن یہ حرکی (کائنیٹک) نقول بناتا ہے اور یہ عمل حیاتیات میں اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا تھا۔

لیکن یہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو استعمال کیا گیا جس سے اربوں جسمانی ساختیں بنائی گئیں اور ان میں سے بہترین منتخب کی گئیں۔ ان میں سی شکل کا روبوٹ بہترین تجویز کیا گیا جو پیک مین ویڈیو گیم کی شکل کا تھا۔

پیٹری ڈش میں سی شکل والے زینوبوٹ نے بہت سارے ننھے منے اسٹیم خلیات کو اپنے منہ میں رکھا اور چند روز بعد ان سے نئے نینو بوٹس وجود میں آئے۔

تاہم یہ بہت ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن زندہ روبوٹ کے ضمن میں ایک اہم پشرفت ہے۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published.