74 برس کے ماؤ نواز کو سپریم کورٹ نے دی ضمانت ، مغربی بنگال حکومت کو بھی ہدایت


عدلات نے کہا کہ فوری سنوائی یقینی کیے بغیر کسی کو شخصی آزادی سے محروم کرنا آئین کی دفعہ 21 کے مطابق نہیں ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

Engagement: 0

سپریم کورٹ نےغیر قانونی طور پر راکٹ لانچر بنانے میں ماؤنوازوں کی مدد کے ملزم مہاراشٹر کے 74 برس کے انجینئر آشم کمار ہرناتھ بھٹاچاریہ کی ضمانت کی عرضی کو منظوری دے دی۔

عدالت عظمیٰ نے قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے تفتیش کیے جانے والے اس طرح کے معاملوں کی فوری سنوائی کے لیے ایڈیشنل اسپیشل کورٹس تشکیل دینے کے لیے مناسب قدم اٹھانے کی ہدایت مرکز اور مغربی بنگال حکومت کو دی۔ بینچ نے کہا کہ حکومت اسپیشل کورٹس تشکیل دے تاکہ روزانہ سنوائی کی جا سکے۔

جسٹس اجے رستوگی اور جسٹس ابھے ایس او کی بنچ نے ملزم کی ضمانت کی عرضی کی منظور کی۔
ضمانت کی عرضی منظور کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ ملزم کے خلاف سنگین الزام ہے لیکن دیگر آئینی حقوق کو بھی دیکھا جانا ضروری ہے۔ فوری سنوائی یقینی کیے بغیر کسی کو شخصی آزادی سے محروم کرنا آئین کی دفعہ 21 کے مطابق نہیں ہے۔

بینچ نے ملزم کی قید میں گذاری گئی مدت اور اس کی عمر سمیت مختلف وجوہات کے پیش نظر ضمانت منظور کی۔ عدالت عظمیٰ نے نوٹ کیا کہ اپیل کنندہ کو 6 جولائی 2012 کو گرفتار کیا گیا تھا اور اب اس کی عمر 74 سال ہے۔ اس کے خلاف چارج شیٹ 2012 میں داخل کی گئی تھی اور 2019 میں الزامات طے کیے گئے تھے۔

سماعت کے دوران، این آئی اے نے سنگین الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت کی عرضی کی مخالفت کی، جسے بینچ نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ زیر التوا ءمقدمات کے لیے زیر نظر قیدیوں کو غیر معینہ مدت تک حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔

عدالت عظمیٰ نے مغربی بنگال حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اسپیشل کورٹس قائم کرنے کے لیے ضروری کارروائی کرے تاکہ این آئی اے کی طرف سے روزانہ کی سماعت کو یقینی بنایا جا سکے۔ بینچ نے مرکزی حکومت کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ اسپیشل کورٹس کی تعداد بڑھانے کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ساتھ مشاورت کے ساتھ ریاستی حکومت کے سامنے معاملہ اٹھائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *