ٹوئٹر پر اچانک فالوورز کی تعداد میں کمی، صارفین نے سی ای او پراگ اگروال سے کی شکایت


ہندوستان میں ٹوئٹر پر لوگوں کے فاوورز میں اچانک کمی آنے لگی ہے۔ کچھ صارفین نے کچھ منٹوں میں ہی سینکڑوں فالوورز کھو دئے، جبکہ کچھ صارفین نے کہا ہے کہ اب تک ان کے ہزاروں فالوورز کم ہو چکے ہیں

ٹوئٹر، علامتی تصویر
ٹوئٹر، علامتی تصویر
user

Engagement: 0

نئی دہلی: ہندوستان میں ٹوئٹر پر لوگوں کے فاوورز میں اچانک کمی آنے لگی ہے۔ کچھ صارفین نے کچھ منٹوں میں ہی سینکڑوں فالوورز کھو دئے، جبکہ کچھ صارفین نے کہا ہے کہ اب تک ان کے ہزاروں فالوورز کم ہو چکے ہیں۔ اگرچہ اس معاملہ پر ٹوئٹر کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا جا رہا ہے، تاہم یہ تصور کیا جا رہا ہے کہ اس پلیٹ فارم کی صفائی کی جا رہی ہے اور فرضی اور غیر فعال کھاتوں کو معطل کیا جا رہا ہے۔ٍ

رپورٹ کے مطابق مائیکرو بلانگنگ پلیٹ فارم فرضی کھاتوں سے نجاب پانے کے لئے وقتاً فوقتاً ایسا کرتے ہیں۔ اس میں وہ صارفین کے پاسورڈ اور تفصیلات کی تصدیق کرتے رہے تہیں۔ ٹوئٹر نے رواں سال ایک مرتبہ اور ایسا ہی کیا تھا، اس وقت بھی صارفین کے فالوورز میں کمی آئی تھی۔

خیال رہے کہ جون کے مہینے میں بالی ووڈ کے اداکار انوپم کھیر نے شکایت کی تھی کہ ان کے 80 ہزار فالوورز کم ہو گئے ہیں، تب ٹوئٹر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جن یوزرس کو اسپیم میں ڈالا گیا ہے، جب تک ان کے پاسورڈ یا فون نمبر کنفرم نہیں ہو جاتے اس وقت تک وہ فالوور کاؤنٹ میں نظر نہیں آئیں گے۔

ٹوئٹر نے یکم دسمبر سے اپنی پرسنل انفارمیشن سکیورٹی پالیسی میں تبدیلی کی ہے۔ ٹوئٹر نے یوزرس کو پرائیویٹ میں میڈیا فائل جیسے تصویر، ویڈیو شیئر کرنے پر روک لگا دی تھی۔ اب کوئی بھی یوزر بغیر پرمیشن کے اسے میڈیا فائل نہیں بھیج سکتا۔ اس کے علاوہ ٹوئٹر نے حساس معلومات مثلاً گھر کا پتا، شناخت ظاہر کرنے والے دستاویزات اور رابطہ کی تفصیل کی حامل میڈیا فائلز کو بھی بین کر دیا ہے۔

صارفین نے اپنے فالوورز میں کمی کی شکایت ٹوئٹر کے نئے سی ای او پراگ اگروال سے انہیں ٹوئٹ میں ٹیگ کر کے کی ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ پراگ اگروال کے فالوورز میں بھی کمی آ گئی ہے۔ ان 3 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ فالوورز تھے جن میں سے 43 ہزار سے زیادہ کم ہو گئے ہیں۔ کچھ صارفین نے پراگ اگروال سے مطالبہ کیا ہے کہ اس عمل کو روک دیں۔




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *