کئی امریکی ریاستوں میں اومیکرون کی تصدیق، ویکسن یافتہ مریضوں میں علامات معمولی ہیں


امریکہ میں چند روز پہلے تک جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس کی نئی دریافت ہونے والی جینیاتی قسم اومیکرون موجود نہیں تھی، لیکن جمعرات کے اختتام تک کم از کم پانچ ریاستوں میں اس کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ اس سے ایک بار پھر یہ ظاہر ہوا ہے کہ وائرس کی تبدیل شدہ ہیئت کتنی تیزی اور آسانی سے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

امریکہ میں پہلے کیس کی تصدیق کیلی فورنیا میں ہوئی۔ اس کے بعد کیے جانے والے لیبارٹری ٹیسوں سے پتہ چلتا ہے کہ کووڈ-19 کی اس نئی قسم اومیکرون نے نیویارک کے میٹروپولیٹن علاقے میں کم ازکم پانچ افراد کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست منی سوٹا کا ایک شخص بھی اس کی زد میں آ چکا ہے جس نے نومبر میں نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں ایک کنونشن میں شرکت کی تھی۔

حکام نے بتایا کہ وائرس کی اس نئی قسم سے متاثر ہونے والوں میں کولوراڈو کی ایک خاتون، جس نے حال ہی میں جنوبی افریقہ کا سفر کیا تھا، ہوائی کا ایک شہری، جو حالیہ عرصے میں اپنے علاقے سے باہر کہیں بھی نہیں گیا تھا، اور کیلی فورنیا کا ایک اور رہائشی، جس نے گزشتہ ماہ جنوبی افریقہ کا سفر کیا تھا، شامل ہیں۔

ابھی تک اومیکرون کے بارے میں بہت کچھ واضح نہیں ہے۔ مثلاً یہ کہ آیا یہ بھی زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے جیسا کہ صحت کے کچھ ماہرین کو خدشہ ہے۔ ابھی یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ کرونا ویکسین اس کے خلاف کتنی مؤثر ہے، اور یہ کہ یہ ویریئنٹ بھی لوگوں کو اتنا ہی شدید بیمار کر سکتا ہے جیسا کہ پہلے پہل ظاہر ہونے والے کرونا وائرس نے کیا تھا۔

امریکہ کے وہ علاقے جہاں اومیکرون کی نشاندہی ہوئی ہے۔ 3 دسمبر 2021

امریکہ کے وہ علاقے جہاں اومیکرون کی نشاندہی ہوئی ہے۔ 3 دسمبر 2021

ہر امریکی ریاست میں صحت کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ غیر ضروری طور پر پریشانی یا تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن سامنے آنے والے کیسز میں کچھ ایسے افراد بھی شامل ہیں جو حالیہ عرصے میں کسی دوسرے علاقے میں نہیں گئے تھے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ ویریئنٹ امریکہ کے کچھ حصوں میں پہلے ہی مقامی طور پر گردش کر رہا تھا۔

نیویارک شہر کے میئر بل ڈی بلاسیو نے گورنر کیتھی ہوکو کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ہمیں یہ فرض کرنا ہو گا کہ اس کے پیچھے اور بھی بہت کچھ ہے اور یہ کہ یہ کافی وقت سے یہاں موجود ہے۔

متاثرہ افراد میں نیو یارک کے علاقے لانگ آئی لینڈ کی ایک 67 سالہ خاتون شامل ہے، جو حال ہی میں جنوبی افریقہ گئی تھی۔ اسی طرح بروکلین اور کوئینز کے رہائشیوں اور ایک اور مریض نے بھی ممکنہ طور پر سفر کیا تھا۔ ان میں سے صرف ایک شخص نے کووڈ-19 سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی تھی، جب کہ حکام کے پاس بقیہ چار مریضوں کو ویکسین لگوائے جانے کی معلومات موجود نہیں ہیں۔

اومیکرون کی تصدیق کے بعد گورنر کیتھی ہوکو، میئر بل ڈی بلاسیو اور ہیلتھ کمشنر ڈیو جوکشی ایک پریس کانفرنس میں۔ 2 دسمبر 2021

اومیکرون کی تصدیق کے بعد گورنر کیتھی ہوکو، میئر بل ڈی بلاسیو اور ہیلتھ کمشنر ڈیو جوکشی ایک پریس کانفرنس میں۔ 2 دسمبر 2021

ریاست منی سوٹا میں، صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ اومیکرون میں مبتلا ہونے والے شخص نے امریکہ سے باہر کا سفر نہیں کیا، البتہ وہ نیویارک کے ایک کنونشن میں شرکت کے لیے گیا تھا اور اس سے اگلے ہی دن اس میں مرض کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو گئی تھیں۔

منی سوٹا کے ہیلتھ کمشنر جان میلکم نے کہا ہے کہ امکان ہے کہ اس شخص کو کنونشن ہی میں وائرس لگا تھا، لیکن وہ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

نیویارک میں حکام نے کہا ہے کہ وہ کنونشن میں شرکت کرنے والے بقیہ افراد کا کھوج لگانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ کنونشن 19 سے 21 نومبر تک جاری رہا تھا جس میں منتظمین کے مطابق تقریباً 50 ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔ منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کنونشن میں شرکت کے لیے چہرے کا ماسک پہننا اور کم از کم ویکسین کی ایک خوراک لگوانے کا ثبوت دکھانا ضروری تھا۔

اس تقریب کا اہتمام نیویارک کے جیکب جاوٹس کنونشن سینٹر میں اس موقع پر کیا گیا تھا جب شہر میں میسی تھینکس گوونگ کی سالانہ پریڈ کے لیے تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ اور امریکہ نے فضائی سفرکی پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے کچھ احتیاطی اقدامات کے ساتھ بین الاقوامی مسافروں کے لیے سرحدیں کھول دی تھیں۔

نیویارک شہر کے ہیلتھ کمشنر ڈیو چوکشی نے کنونشن میں شرکت کرنے والوں سے کہا ہے کہ وہ اپنا کرونا ٹیسٹ کروائیں۔

انہوں نے جمعرات کے روز کہا کہ اس کی وجہ وہ لوگ نہیں ہیں جنہوں نے جنوبی افریقہ یا دنیا کے دوسرے حصوں کا سفر کیا جہاں اومیکرون دریافت ہوا تھا۔

منی سوٹا کے جس شخص میں اومیکرون کی تصدیق ہوئی، اس میں اس مرض کی ہلکی علامتیں 22 نومبر کو ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ ریاست کے صحت کے حکام نے بتایا کہ اسے ویکسین کی خوراکیں لگ چکی تھیں اور نومبر کے اوائل میں اس نے ویکسین کی بوسٹر خوراک بھی لی تھی۔ حکام نے بتایا کہ 24 نومبر کو اس کا دوبارہ معائنہ کیا گیا۔ اس وقت تک مرض کی علامتیں کم ہو گئی تھیں۔

نیویارک یونیورسٹی کے سکول آف گلوبل پبلک ہیلتھ میں وبائی امراض کی ایک ماہر ڈانیئل اومپیڈ کا کہنا ہے کہ فضائی سفر میں نرمی کے بعد اومیکرون جیسے ویریئنٹ کا پھیلاؤ ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک ریاست سے دوسری ریاست تک روکنا مشکل ہے۔

تھینکس گوونگ کے موقع پر امریکی ہوائی اڈوں پر مسافروں کے ہجوم دیکھے گئے۔ ڈینور 23 نومبر 2021

تھینکس گوونگ کے موقع پر امریکی ہوائی اڈوں پر مسافروں کے ہجوم دیکھے گئے۔ ڈینور 23 نومبر 2021

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اس سے گھبرانا نہیں چاہیے، البتہ اس کی فکر کرنی چاہیے۔

گورنر ہوکو نے کہا کہ منی سوٹا میں اومیکرون سے متاثرہ افراد کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ہر وہ شخص جو کووڈ-19 سے بچاؤ کی ویکسین لینے کا اہل ہے، اسے یہ ویکسین یا اس کا بوسٹر ضرور لگوانا چاہیے، اگر اس نے ابھی تک ایسا نہیں کیا ہے۔

ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی گورنر کیتھی ہوکو کہتی ہیں کہ اس صورت حال سے نمٹنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ نیویارک کا ہر شخص ویکسین اور اس کا بوسٹر لگوا کر مقابلے کے لیے تیار ہو جائے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published.