قوس قزح کیسے نمودار ہوتی ہے؟ جانیے دلچسپ حقائق –


( تحریر و تحقیق : ستونت کور )

دھنک یا قوس قزح فطرت کا ایک شاہکار مظہر ہے۔ جس میں بارش کے بعد فضا میں موجود پانی کے قطرے ایک تسلسل اور  ترتیب سے کام کرتے ہیں۔

جب ان میں سے سورج کی شعائیں گزرتی ہیں اور یہ گزرنے کے بعد سات رنگوں میں بدل جاتی ہیں اور یوں آسمان کے اوپر ایک سترنگی کمان یا دھنک بن جاتی ہے۔ اسے اردو میں قوس و قزح اور ہندی میں اندردھنُش بھی کہتے ہیں۔

قوس قمر (مون باؤ) جسے لونر ریمبو بھی کہا جاتا ہے اس وقت وقوع پذیر ہوتی ہے جب چاند کی روشنی ہوا میں موجود پانی کے ننھے قطروں سے منعکس ہوتی ہے۔

یہ مظہر فطرت بہت نایاب ہے اور اسے بہت کم ہی دیکھا جاتا ہے، قوس قمر کا بارش کے بعد آسمان پر ظہورپورے چاند کی موجودگی کی صورت میں ممکن ہے۔

رات کے وقت نظر آنے والی قوس قزح  کا بلاشبہ انتہائی دلفریب منظر ہوتا ہے لیکن یہ دن کے وقت بعد از بارش پیدا ہونی والی قوس کی طرح اکثر و بیشتر نظر نہیں آتی بلکہ اس کا ظہور کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔

البتہ بڑی آبشاروں کے نزدیک قوس قمر کے پیدا ہونے کے امکانات کہیں زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ آبشار کے گرنے سے پیدا ہونے والی دھند کی تہیں قوس قمر کے ظہور کے لیے بہترین وقت ہوتی ہیں اور دنیا میں دو ایسے مقامات بھی ہیں جہاں قوس قمر باقاعدگی سے پیدا ہوتی ہے اور اسے اکثر راتوں میں باآسانی دیکھا جاسکتا ہے۔

ان مقامات میں آبشار کمبرلینڈ جو کہ امریکی ریاست “کنٹکی” میں واقع ہے اور دوسری آبشار وکٹوریا جو کہ زیمبیا اور زمبابوے کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے علاوہ قوس قمر دیکھے جانے کے دیگر مقامات نیاگرا آبشار (کینیڈا) ، یوسمائیٹ نیشنل پارک (امریکہ ) اور جزیرہ ہوائی (امریکہ) ہیں۔

تاریخ میں سب سے پہلے قوس قمر کا ذکر یونانی فلسفی “ارسطو” نے 350 قبل مسیح میں لکھی اپنی کتاب میٹرو لوجی میں کیا ہے۔

Comments





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published.