عالمی معیشت پر کرونا وائرس کے اثرات دو برس تک جاری رہیں گے، اقوام متحدہ


اگرچہ دنیا کے بعض حصوں میں کووڈ-19 کا نیا ویرینٹ اپنے عروج کو چھونے کے بعد واپسی کے سفر پر ہے اور آئندہ کچھ ہفتوں میں اس وبا کا زور ٹوٹ سکتا ہے، لیکن اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ اور اگلے سال کے دوران عالمی معیشت کی رفتار سست رہے گی۔

دنیا بھر میں اب تک دس ارب کی لگ بھگ ویکسین کی خوراکیں لگ چکی ہیں اور ترقی یافتہ ممالک میں ویکسین لگانے کی شرح 60 فی صد سے زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چہرے کے ماسک، سماجی فاصلوں کی پابندی اور اجتماعات سے گریز اور لاک ڈاؤن جیسے احتیاطی اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ سال عالمی وبا کی صورت حال قدرے کنٹرول میں رہی، جس سے کاروباری سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہوئیں اور اشیا کی مانگ میں اضافہ ہوا۔

اقوام متحدہ کے ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک اینڈ سوشل افیئرز یعنی ڈی ای ایس اے، کی ‘سال 2022 میں عالمی معیشت کی صورت حال اور امکانات’ پر حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نئے سال کے دوران کووڈ-19 کی نئی جینیاتی اقسام کی لہروں، معاشی سست روی، لیبر مارکیٹ میں خلل، چیزوں کی فراہمی میں رکاوٹوں کے چیلنجز اور افراط زر کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے مسائل برقرار رہ سکتے ہیں، جس کے مجموعی اثرات معیشت کی رفتار پر مرتب ہوں گے۔

برازیل کے ایک گنجان آباد شہر ریو ڈی جنیریئو کا ایک منظر، کرونا کے پھیلاؤ نے اس شہر کے باسیوں کو بری طرح متاثر کیا۔ فائل فوٹو

برازیل کے ایک گنجان آباد شہر ریو ڈی جنیریئو کا ایک منظر، کرونا کے پھیلاؤ نے اس شہر کے باسیوں کو بری طرح متاثر کیا۔ فائل فوٹو

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال 2021 میں معاشی سرگرمیوں میں قدرے بحالی کے نتیجے میں پیدوار میں اضافہ ہوا اور معاشی ترقی کی رفتار 5 اعشاریہ 5 فی صد تک پہنچ گئی، جب کہ اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ موجودہ سال 2022 میں افزائش کی شرح گھٹ کر 4 فی صد اور اگلے سال 2023 میں 3 اعشاریہ 5 فی صد رہنے کی توقع ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا ہے کہ اس وقت دنیا کے ملکوں کے درمیان پائی جانے والی عدم مساوات میں کمی لانے کے لیے مالیاتی اقدامات اور مربوط پالیسی کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ایک انسانی خاندان کی طرح متحد ہو کر کام کریں تو ہم سال 2022 کو انسانوں اور معیشتوں کے لیے بحالی کا سال بنا سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک اینڈ سوشل افیئرز نے کووڈ-19 کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مربوط اور جامع اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ بصورت دیگر عالمگیر وبا عالمی معیشت کی پائیدار بحالی کی راہ میں سب سے بڑا خطرہ بنی رہے گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وبا کے نتیجے میں ترقی پذیر ملکوں کو امیر اقوام کے مقابلے میں طویل مدتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ افریقہ، لاطینی امریکہ اور کریبیئن خطے کے ملک وبا سے پہلے کے دور کے مقابلے میں نمایاں طور پر معاشی سست روی کا ہدف بن سکتے ہیں۔ افریقہ میں 2023 تک غربت کی شرح میں اضافہ جاری رہ سکتا ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں توقع ہے کہ امیر ملکوں کی معیشتیں اگلے سال کے اختتام تک مکمل طور پر بحال ہو جائیں گی۔

انڈونیشیا کے ایک اسٹور میں ایک کارکن کام میں مصروف ہے۔ کرونا کے باعث رزگار کے مواقعوں میں کمی آئی ہے۔ فائل فوٹو

انڈونیشیا کے ایک اسٹور میں ایک کارکن کام میں مصروف ہے۔ کرونا کے باعث رزگار کے مواقعوں میں کمی آئی ہے۔ فائل فوٹو

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگلے دو سال کے دوران روزگار کی سطح کرونا وائرس کی شروعات سے پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر نیچے رہے گی اور یہ صورت حال اس کے بعد بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔

امریکہ اور یورپ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث بہت سے کارکن اپنی ملازمتوں سے محروم ہو گئے تھے اور کئی ایک کو مجبوراً اپنی نوکریاں ترک کرنی پڑیں تھیں۔ ان میں سے اکثر ابھی تک اپنے روزگار پر لوٹ نہیں سکے ہیں اور ان ترقی یافتہ اقوام میں رو زگار کی صورت حال بدستور اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر رہے گی۔

رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر اور غریب ملکوں میں ویکسین لگانے کی کم تر شرح اور امدادی پروگراموں کی کمی کے باعث روزگار کی سطح کمزور رہے گی اور ملازمتوں کی بحالی کا عمل سست روی کا شکار رہے گا۔

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ سے دو روز پہلے عالمی بینک نے بھی عالمی معاشی امکانات پر اپنی رپورٹ جاری کی تھی، جس میں تقریباً یہی نتائج اخذ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کووڈ-19 کا نیا ویرینٹ اومیکرون کا تیز تر پھیلاؤ جاری رہنے کا امکان ہے جو مستقبل قریب میں معاشی سرگرمیوں میں خلل اندازی کرتا رہے گا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *